پروفیسر اخلاق آہن کی تالیف ’’خیام شناسی ‘‘ پر مذاکرہ

غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی میں شام شہریاراں کے تحت پروفیسر اخلاق آہن کی اہم کتاب ’’خیام شناسی‘‘ کے حوالے سے نہایت شاندار مذاکرہ کا اہتمام بنیاد فارسی دہلی کے اشتراک سے کیا گیا، جس میں دہلی کے مختلف اداروں، یونیورسٹیوں اور سفارتوں سے وابستہ اہم علمی و ادبی شخصیات نے حصہ لیا۔ اس جلسہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی کے سابق وائس چانسلر سید شاہد مہدی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے

اور معروف ناقد و دانشور اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے سیکرٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے صدارت کی۔ اس موقع پر جن ادیبوں ، دانشوروں اور اساتذہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، ان میں شعبہ اردو ، دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر ایمرٹس پروفیسر عبدالحق، جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں مہمان استاد پروفیسر عبدالخالق رشید، معروف فارسی استاد اور محقق پروفیسر چندرشیکھر، شعبہ فارسی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ معروف فارسی استاد پروفیسر عراق رضا زیدی، صدرشعبہ فارسی ، دہلی یونیورسٹی پروفیسر علیم اشرف خان اور بنیاد فارسی کے سیکریٹری ڈاکٹر علی اکبرشاہ شامل ہیں اورنظامت کا فریضہ ڈاکٹر سید نقی عباس کیفی نے بہ حسن وخوبی انجام دیا۔
مذاکرہ کے ابتدا میں غالب انسٹیٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضا نے حیدر نے خیام شناسی کا مفصل تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب مطالعۂ خیام کے حوالے سے اہم دستاویز ہے اور فارسی اور اردو ادب کا ذوق رکھنے والے ہر شخص کو مطالعہ کے دعوت دیتی ہے۔ کابل یونیورسٹی سے وابستہ معروف فارسی اسکالر اور ادیب پروفیسر عبدالخالق رشید نے بڑے تفصیل کے ساتھ خیام کی شخصیت، اس کے علمی و ادبی کارناموں، زیر بحث کتاب خیام شناسی اور صاحب کتاب پروفیسر آہن کے تعلق گفتگو کی اور خیام شناسی کو سید سلیمان ندوی کی کتاب ‘‘خیام‘‘ کے بعد دوسراسب سے اہم تحقیقی کارنامہ قرار دیا۔ پروفیسر عراق رضا زیدی نے خیام کے حوالے سے مغربی تصورات کی خامیوں کا ذکر کیا۔ ساتھ ہی کتاب میں شامل کرنل بھولا ناتھ اور سید علی جلال پوری کے مقالات کا تنقیدے جایزہ پیش کیا۔ پروفیسر علیم اشرف خان نے بشمول خیام شناسی، پروفیسر اخلاق آہن کے دیگر علمی و تحقیقی کاموں کی وسعت و اہمیت کے ذکر ساتھ ساتھ بعض اشتباہات کے طرف اشارہ کیا۔ ڈاکٹر علی اکبر شاہ نے اپنی گفتگو کے دوران اس کتاب کے مشمولات کی افادیت و اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ پروفیسر چندرشیکھر نے اپنی تقریر میں کہا کہ اخلاق آہن پوری فارسی دنیا میں بحیثیت فارسی اسکالر اور شاعر اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی تقویم کے حوالے سے خیام کی خدمات کا مفصل ذکر کیا۔ پروفیسر عبدالحق نے اس کتاب کی اشاعت پر اظہار مسرت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کتاب فارسی والوں سے زیادہ اہل اردو کو دعوت مطالعہ دیتی ہے اور اپنے مشمولات کے افادیت کے اعتبار سے خیام پر لکھی گیے شبلی اور سید سلیمان ندوی کی تحریروں کے بعد سب سے اہم اضافہ ہے۔ پروفیسر آہن نے مذاکرہ میں حصہ لیتے ہوئے اس کتاب اور خیام شناسی کے مختلف پہلوؤں کے حوالے گفتگو کی اور کہا کہ خیام کے فکر و فلسفہ نے شرق و غرب کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے اور تقریباً تمام زبانوں کے ادبی رویوں پر اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔
اس جلسہ میں مہمان خصوصی کے بطور موجود ممتاز شخصیت سید شاہد مہدی نے خیام کے ترقی پسندانہ رویہ کی طرف توجہ دینے پر زور دیا۔ساتھ ہی پروفیسر آہن کے دیگر علمی کارناموں کے ذکر ساتھ ساتھ اس کتاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے دیگر کارنامے بھے انجام دے رہے ہیں اور علمی دنیا کو ان سے بڑی امیدیں ہیں۔ اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایا کہ خیام کی شخصیت ایسی ہے کہ تمام مفکروں اور محققوں کی نگاہیں ان پر مرکوز رہتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ غالب انسٹیٹوٹ اور ہمارے علمے و ادبے حلقوں میں اخلاق آہن کے شخصیت محتاج تعارف نہیں، اور آج جب کہ اردو وفارسی دونوں زبانو ں میں مسلسل علمی کام ہورہاہے،لہٰذا ہمیں اخلاق آہن جیسے محققین کے اشد ضرورت ہے جو دونوں زبانوں اور اس کے ادبی و لسانی رویوں اور روایات سے آشنا ہیں۔ اس جلسہ میں مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ، طلباء کے ساتھ ساتھ سفارت افغانستان کے کلچرل کاونسلر ڈاکٹر بلخی اور دیگر سفارتی اہلکار، ایرانی اسکالر اور ہند شناس محترمہ فاطمہ جوادی نیا، صدر شعبۂ فارسی جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر عبدالحلیم، ڈاکٹر سرورالہدی،ڈاکٹر ذکی طارق، جواہرلعل نہرو یونیورسٹے سے پروفیسر منندرناتھ ٹھاکر، پروفیسر دویندر چوبے، ڈاکٹر آصف زہری، ڈاکٹر خیری، معروف سماجی شخصیت منوج کمار، دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر راجندر کمار، ڈاکٹر سلیم جاوید، ڈاکٹر مہتاب جہاں، اندراگاندھی یونیورسٹی سے ڈاکٹر سرورالحق کے علاوہ ڈاکٹر بترا، مغیث احمد، محترمہ ریتو کوشک، ایرانی اسکالر محترمہ مہدیہ، ڈاکٹر شبیر، ڈاکٹر شارد جمال، ڈاکٹر ادریس کے علاوہ بڑے تعداد میں اہل ذوق و ادب نے حصہ لیا۔

Check Also

غالب انسٹی ٹیوٹ میں بین الاقوامی غالب سمینار کا انعقاد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے