پروفیسر رتن لال ہانگلو کے شعری مجموعے’’حسرتیں‘‘کارسم اجرا

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام الٰہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر رتن لال ہانگلو کے شعری مجموعے ’’حسرتیں‘‘ کااجرا عمل میں آیا۔ جس میں مختلف نقاد وشعرااور ادبانے اپنے خیال کااظہارکیا۔ اس موقع پر پرفیسررتن لعل ہانگلونے اپنی نظمیں اور غزلیں سنانے کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیقات کے پس منظر کو پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ میری ہر نظم کے پس منظر میں ہندوستان میں ہونے والے غیر انسانی واقعات ہیں۔ دوران تقریران واقعات کی طرف اشارہ بھی کیا۔آپ نے اپنی طالب علمی کے زمانے سے لے کر وائس چانسلر ہونے تک کے واقعات کو پیش کیااور ساتھ ہی ساتھ اُن حالات پر بھی روشنی ڈالی جن سے یہ نظمیں وجود میں آئیں۔پروفیسر علی احمد فاطمی نے کہا کہ اردو شاعری کی روایت احتجاج اور مزاحمت کی رہی ہے۔اس لیے مجھے ان کی شاعری اچھی لگتی ہے کہ اس میں جمال بہت ہے وصال بہت کم ہے۔ انہوں نے زندگی کو جس طرح پیش کیااس سے ان کے زندگی کے شعور سے آگاہی ہوتی ہے۔ ان کے مجموعے میں جومختلف موضوعات پر نظمیں اور غزلیں ہیں ان کاذکرکرتے ہوئے پروفیسر علی احمد فاطمی نے کہا کہ اچھی شاعری کے لیے شعور علم سے زیادہ شعور کائنات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مجموعے سے ان کے شعور کائنات کابھی اندازہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر علی جاوید نے موجودہ ہندوستانی سیاست کے تناطر میں ہانگلو صاحب کے اشعار کاتجزیہ کیا۔اپنے اور ہانگلو صاحب کے تعلیمی دورکاذکر کرتے ہوئے کہاکہ طالب علمی کے زمانے میں شاعری کا ذوق تونہیں تھالیکن شاید اپنے وطن کشمیر سے جو لگاؤ ہے اور اس لگاؤ کی وجہ سے وہاں کے درداور کرب نے انہیں شاعر بنادیا۔پروفیسر انورپاشا نے اپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہانگلو صاحب ابھی تک ایک مورخ اور ایک استادکی حیثیت سے جانے جاتے ہیں لیکن اب ایک شاعرکی حیثیت سے بھی انہوں نے اپنی شناخت بنالی۔ ہانگلو ایک دانشور ہیں اور جب ایک دانشور شاعری کرتاہے تو اس کی شاعری کے ایک ایک لفظ میں معانی کی پرتیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس کشمیر کے دردوکرب کو موضوع بنایا جس کو جنت سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ اِس پورے مجموعے میں کسی کے لیے نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔وہ ہر موضوع کو محبت کے انداز میں پیش کرتے ہیں۔وہ جس سماج اور معاشرے کا خواب دیکھ رہے تھے وہ خواب پورا نہیں ہوتا دکھائی دیتاتواپنے اس کرب کواس مجموعے میں پیش کیااور شاید اسی لیے اس کا نام حسرتیں رکھا ہے۔ ڈاکٹر خالد علوی نے اپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہانگلوصاحب نے سرکای عہدے پر رہتے ہوئے بے باکی سے شاعری میں اپنے خیالات کا اظہارکیا۔ مختلف شعرا کے کلام سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بہت سے اشعار اقبال،میر کے خیالات سے ملتے ہیں۔ فارسی تراکیب وغیرہ کوبھی بہت تفصیل سے پیش کیا۔ نیز انہوں نے کہاکہ وہ ایک اچھے انسان ہیں اس لیے ان کی شاعری بھی اچھی ہے۔ اچھی شاعری کے لیے اچھا انسان بھی ہونا ضروری ہے۔پروفیسر ابوبکر عباد نے کہاکہ عام لوگوں کے مقابلے میں شعراوادبامیں نرمی اور انسیت کاعنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ ہانگلو کی شاعری میں انسانوں سے انسیت و محبت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ہندوستانی سماج اور بہ طور خاص کشمیر کے تناظرمیں لکھی ہوئی نظموں کاتجزیہ بھی ڈاکٹر ابوبکر عباد نے پیش کیا۔آصف اعظمی نے بھی اس موقع پر پروفیسر ہانگلو کو اُن کے اس شعری مجموعے پر مبارکباد پیش کیا۔ ڈاکٹر رضاحیدر نے رتن لعل ہانگلو کاتعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ مورخ اور شاعر دونوں کا تعلق سماج سے ہوتاہے اس لیے ایک مورخ کو شاعر بننے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ ان کی شاعری میں وطن پرستی اور انسان دوستی بنیادی موضوع ہے۔اور اس موضوع کو آپ نے اپنی شاعری میں مرکزی حیثیت دی ہے۔اس جلسے میں نگار عظیم،ڈاکٹر شفیع ایوب،رخشندہ روحی، ذکی طارق، ڈاکٹر خالد اشرف، ڈاکٹر ابوظہیر ربانی، ڈاکٹر ادریس احمد، ایم۔آر ۔قاسمی کے علاوہ کافی تعددا میں اہلِ علم موجود تھے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے