غالب انسٹی ٹیوٹ میں ’’کشمیری لال ذاکر:ہمہ جہت شخصیت‘‘پر مذاکرے کا انعقاد

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہریاراں کے موقع پر نند کشور وکرم کی مرتبہ کتاب ’’کشمیری لال ذاکر ہمہ جہت شخصیت‘‘پرایک بڑے مذاکرہ کا انعقاد کیاگیا جس کی صدارت پروفیسر شمیم حنفی نے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے معروف افسانہ نگار رتن سنگھ موجود تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر علی جاوید، مشرف عالم ذوقی، پروفیسر کملیش موہن، فاروقی ارگلی،نندکشور وکرم اور ڈاکٹر خالد اشرف نے اپنے خیالات کااظہار کیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرنے جلسے کی ابتداء میں کتاب کا تعارف پیش کیا۔ اپنی صدارتی گفتگو میں پروفیسر شمیم حنفی نے فرمایاکہ بزرگ ہونے کے باوجود کشمیری لال ذاکرنے اپنی عمر کو دیوار نہیں بننے دیا۔ چھوٹوں اور بڑوں سے محبت سے ملتے تھے۔ اپنی بے شمار تخلیقات چھوڑیں اور عمرکے آخری حصّے میں بھی لکھتے پڑھتے رہے، ہمیں ایسے ادیبوں کی قدر کرنی چاہیے اور برابر یاد بھی کرتے رہنا چاہیے۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رتن سنگھ نے کہاکہ ذاکر صاحب گوکہ رئیس خانوادے سے تعلق رکھتے تھے اور کشمیرکے قدرتی مناظر کو دیکھتے ہوئے کہانی بُنتے تھے۔کشمیری لال ذاکرکے یہاں قدرتی عناصر کردار بن کے آئیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ادیب کبھی نہیں مرتا کیوں کہ ادب زندہ رہتا ہے۔ڈاکٹر علی جاوید نے کشمیر ی لال ذاکر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری لال ذاکر اپنے آپ میں ایک انجمن تھے جب تک زندہ رہے صوبۂ ہریانہ میں اردو زبان و ادب کو فروغ دیتے رہے۔ مشرف عالم ذوقی نے اس اہم کام کے لئے نندکشور وکرم کومبارک باد پیش کیااورخراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کشمیری لال ذاکر کی ادبی خدمات کا اعتراف کیااور کہاکہ کشمیری لال ذاکر صحیح معنوں میں ایک بڑے ادیب تھے۔ جو بھی لکھتے تھے سوچ سمجھ کر لکھتے تھے۔فاروق ارگلی نے کہا کہ کشمیری لال ذاکر جیسی سدابہار شخصیت اب نایاب نہیں تو کم یاب ضرورہے۔انہوں نے اپنی گفتگو میں ذاکر صاحب پر ایک خاکہ بھی پڑھ کر سنایا۔ ڈاکٹر خالد اشرف نے کشمیری لال ذاکر کے افسانے کاذکر کرتے ہوئے اُن کے افسانے کو عصری حِسّیت کا منظرنامہ بتایا۔ کشمیری لال ذاکر کی صاحبزادی اور تاریخ کی پروفیسر کملیش موہن نے غالب انسٹی ٹیوٹ کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ عام طورپرایک عمر کے بعد لکھنے اور پڑھنے کا جذبہ خشک ہوجاتا ہے لیکن وہ معمر ہوکر بھی مطالعہ میں ڈوبے رہتے تھے۔اس موقع پر کشمیری لال ذاکر کی کتاب کے مرتب نندکشور وکرم نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے تمام ارکان کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ذاکر صاحب سے ۵۰ سالوں تک میرے علمی روابط رہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ کشمیری لال ذاکر علمی وادبی مجالس میں مجھے ہمیشہ یاد رکھتے تھے۔ڈاکٹر رضاحیدرنے کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس کتاب میں جن ادیبوں کے مضامین شامل ہیں انہو ں نے کشمیری لال ذاکر کی علمی اور ادبی زندگی کابھرپور احاطہ کیاہے۔ کشمیری لال ذاکر نے اردو کی تقریباً سبھی صنف پر کچھ نہ کچھ ضرور لکھا۔ سوسے زیادہ کتابوں کے مصنف رہے اور زندگی کے آخری ایام تک اپنی تحریوں کے ذریعہ اپنی موجودگی کااحساس دلاتے رہے۔جلسے میں ڈاکٹر ابوبکرعباد، جاوید رحمانی،نازیہ جافو، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر سہیل انور کے علاوہ بڑی تعداد میں اہل علم موجود تھے۔

Check Also

غالب انسٹی ٹیوٹ میں بین الاقوامی غالب سمینار کا انعقاد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے