پروفیسرعقیل رضوی کو الٰہ آباد میں استقبالیہ

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام اس عہد کے ممتاز ادیب و دانشور اور ترقی پسند ناقد پروفیسر سید محمد عقیل رضوی کے اعزاز میں الہ آباد یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا ۔ جس کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر رتن لال ہانگلو موجود تھے۔ اس جلسہ میں ڈاکٹر علی احمد فاطمی ،ڈاکٹر علی جاوید ، ڈاکٹر اطہر فاروقی، ڈاکٹر سنتوش بھدوریا،پروفیسر شبنم حمید ، پروفیسر راجندر کمار ، ڈاکٹر رضا حیدر نے اظہار خیال کیا۔ اس جلسہ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پروفیسر سید محمد عقیل رضوی موجود تھے۔ اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سید محمد عقیل رضوی کی خدمت میں سپاس نامہ، مومنٹو ، شال اور پچا س ہزار روپے بہ طور نذرانہ پیش کیا گیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ نے ’’پروفیسر سید محمد عقیل رضوی ادیب و دانشور‘‘ نام کی ایک کتاب بھی ان کے اعزاز میں شائع کی ۔ جس کی رسم رونمائی الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر رتن لا ل ہانگلو کے دست مبارک سے ہوئی اور یہ کتاب تمام سامعین میں تقسیم کی گئی۔وائس چانسلر پروفیسر رتن لال ہانگلو نے اپنی تقریر میں کہا کہ اردو ہمارے تمدن کی روح ہے اور پروفیسر عقیل رضوی کی علمی و ادبی خدمات کے ضمن میں کہا جب تک دنیا رہے گی اردو کے حوالے سے انھیں یاد کیا جائے گا۔پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے صدارتی تقریر میں کہا کہ الہ آباد اپنے متعدد کارہائے نمایاں کی وجہ سے اپنی امتیازی پہچان رکھتا ہے۔عقیل رضوی کی علمی وادبی خدمات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جس کا اعتراف بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔لیکن اس کے باوجود غالب انسٹی ٹیوٹ ان کو یہ اعزاز دیتے ہوئے فخر محسوس کررہا ہے۔ پروفیسر علی جاوید نے عقیل رضوی کی ابتدائی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوکہا کہ پروفیسر عقیل رضوی کی ادبی خدمات پور ی دنیا کے اردو ذخیرہ میں اہمیت کی حامل ہیں۔ پروفیسر راجندر کمار نے عقیل رضوی کو اردو عربی فارسی اور انگریزی زبانو ں کا ماہر قرار دیا۔پروفیسر شبنم حمید نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر عقیل رضوی کو ملا یہ اعزاز پورے الہ آباد یونیورسٹی کے لیے فخر کی بات ہے۔ ڈاکڑ اطہر فاروقی نے پروفیسر رضوی کی تعلیمی خدمات کے حوالے سے کہا کہ انھوں نے تین نسلوں کی تربیت کی ہے۔پروفیسر علی احمد فاطمی نے اپنے استادپروفیسر عقیل رضوی کی علمی و ادبی خدمات کے ساتھ ان کی سماجی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میرے اندر جو کچھ علمی شعور اور تنقید ی آگہی ہے وہ سب استاد کی مرہون منت ہے۔جلسے میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے اس استقبالیہ کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے اس سے قبل بھی متعدد ادیبوں اور دانشوروں کواس استقبالیہ سے سرفراز کیا ہے،آج ہمیں خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہم آج اس عہد کے نامور ناقد و دانشور پروفیسر سید محمد عقیل رضوی کو اعزازیہ سے سرفراز کر رہے ہیں۔پروفیسر سیدمحمد عقیل رضوی کی علمی و ادبی خدمات کادائرہ اتنا وسیع ہے جس کا احاطہ ناممکن ہے۔آپ کی تحریروں اور تقریروں سے آج بھی ہم سبھی کو روشنی مل رہی ہے۔اس استقبالیہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ایڈمنسٹریٹیو آفیسر ڈاکٹر ادریس احمد، عبدالواحد،عبدالتوفیق موجود تھے۔ الہ آباد یونیورسٹی کا تاریخی سینیٹ ہال الہ آباد یونیورسٹی کے اساتذہ و ریسرچ اسکالر اور مختلف شہر سے آئے ہوئے مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے