غالب انسٹی ٹیوٹ میں بین الاقوامی غالب سمینار کا انعقاد

دسمبر 2016

نئی دہلی:آج شام غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام غالب آڈیٹوریم میں بین الاقوامی غالب سمینار کا افتتاح ہوا۔اس موقع پر سالانہ غالب انعامات ۲۰۱۶ء بھی تقسیم کیے گئے ۔ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنرایس وائی قریشی کے ہاتھوں ایوارڈ کی تقسیم کی گئی ۔پروفیسر علی احمد فاطمی کو فخرالدین علی احمد غالب انعام برائے اردوتحقیق وتنقید،پروفیسرعبدالقادرجعفری کوفخرالدین علی احمدغالب انعام برائے فارسی تحقیق وتنقید،محترمہ ذکیہ مشہدی کو غالب انعام برائے اردونثر،مرحوم بیکل اتساہی کو غالب انعام برائے اردوشاعری،جاوید دانش کو ہم سب غالب انعام برائے اردوڈرامہ اورسنجیو صراف کومجموعی ادبی خدمات کے لیے غالب انعام پیش کیا گیا ۔اس موقع پر سمینار کا افتتاح کرتے ہوئے ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کہاکہ مجھے بہت خوشی ہے کہ مجھے ایوارڈ دینے کاشرف حاصل ہوا۔تمام ایوارڈ یافتگان کو ۷۵ہزارروپے اورٹرافی پیش کیے گئے۔

پروفیسر صدیق الرحمان قدوائی ،سکریٹری ،غالب انسٹی ٹیوٹ نے اپنی استقبالیہ تقریر میں کہاکہ یہ سالانہ سمینار ہمارے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔اس سمینار کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہوجاتی ہے کہ اس میں ملک اور بیرون ممالک کے اسکالرز بھی شرکت کرتے ہیں۔تاکہ ادب کے مسائل پر گفتگو کے در واہوسکیں اور اس طرح غالب اور دیگر اہم شخصیات کی فکروفن پر بھی گفتگوہوسکے۔ہمارے ادارے کو ہمیشہ مقاصد میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ادب میں غیر کا تصورکاعنوان جب لوگوں تک پہنچا تو لوگ متحرک ہوئے ۔دراصل ادب کا دائرہ کار زندگی کے تمام پہلووں کو محیط ہے۔صرف شاعری یا مخصوص شخصیات تک محدود نہیں ہے۔غیرکا تصور صرف رقیب تک محدود نہیں ،بلکہ کئی بار غیر اپنے وجود میں بھی پایا جاتا ہے۔غالب نے بھی اپنے ایک خط میں خود کو ہی غیر کہا ہے ۔یہ موضوع مختلف ردعمل کے لیے ہم سب کو ابھارتا ہے۔میں آپ سب کا استقبال کرتا ہوں اور خاص طور پر انعامات حاصل کرنے والوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔

اپنے کلیدی خطاب میں معروف ناقد ودانش ور پروفیسر شمیم حنفی نے کہاکہ ادب اورتاریخ کا ہرپس منظر ایک مٰخصوص دائرہ رکھتا ہے۔غالب نے اپنے وجود سے خود کو الگ کرکے خودکو غیر کے طورپر دیکھنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ہٹلرکہتا تھاکہ کسی ملک کے عوام کو جذباتی طورپر بربادوتباہ کرنا زیادہ آسان ہے۔ترقی پسند تحریک کی پہلی کانفرنس میں ٹیگور شریک نہیں ہوسکے تھے لیکن انہوں نے لکھ کر بھیجا تھا کہ انا کی کینچلی سے نکل کر دنیا کودیکھنے کی کوشش کرو۔عشقیہ شاعری میں فیض کے علاوہ سب نے غیر کو رقیب کا نام دیا ہے ۔فیض نے اس رقیب کو اپنے گلے لگالیا ہے ۔اقبال نے اس سلسلے میں خود کو الگ کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن اس کا احساس بہت دیر میں ہوا۔ نظریاتی ٹوٹ پھوٹ نے اپنے علاوہ سب کو غیربنادیا ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ اس زمانے نے خود کو بھی غیربنادیا ہے ۔ٹیگورآج کے تمام مقبول عام کلچرکے مخالف تھے۔ٹیگورنے لفظ نیشنلزم کی بھی سخت الفاظ میں تردید کی تھی ۔صارفیت اور سیاست کی بالادستی نے ادب اورتخلیق کی راہیں محدود کرنے کی کوشش کی ہے ۔اب کلاسیکی غزل کے رقیبوں کی طرح بہت سے رقیبوں کا سامنا ہے ۔

اپنی صدارتی تقریر میں جسٹس آفتاب عالم نے کہاکہ اپنے زمانے میں یقیناًغالب عندلیب گلشن ناآفریدہ تھے۔لیکن انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کے چند ہی برسوں بعد ملک تقسیم کے کرب سے گزرے گا۔غالب کے یہاں آنے والے زمانے کے افکار پائے جاتے تھے اورغالب کی تشکیل پوری طرح ہندوستان میں ہوئی تھی۔مجھے فخر ہے کہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں میں مقدوربھر شریک رہتا ہوں ۔اس موقع پر میں تمام انعامات حاصل کرنے والوں کو مبارک باد پیش کرتاہوں اور غالب انسٹی ٹیوٹ آپ کو ایوارڈ پیش کرکے آپ کا حق اداکررہا ہے ۔اس قدرنئے موضوع کے انتخاب کے لیے میں ادارے کے عہدے داروں کو مبارک باد پیش کرتاہوں ۔

افتتاحی اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر سید رضا حیدرنے تمام مہمانوں کا شکریہ اداکیا اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے سال بھر کے تمام پروگرواموں کی تفصیل پیش کی۔اس موقع پر تمام مہمانوں کا گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا گیا ۔راجدھانی دلی کی تمام یونیورسٹیوں کے اساتذہ ،طلبہ اورمعززین شہرموجود تھے۔اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کی نئی مطبوعات کا اجرا معزز مہمانوں کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔اس افتتاحی ا جلاس کے بعد محترمہ ودیہ شاہ نے غالب اوردیگر اہم اردو شعراکے کلام پیش کرکے حاضرین کو محظوظ کیا۔

بین الاقوامی سمینار بعنوان’ اردوادب میں غیرکا تصور‘ کے دوسرے روزکے آخری اجلاس میں اپنی صدارتی تقریرمیں معروف ادیب ودانش ور پروفیسر ہربنس مکھیا نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے نئی کھڑکیا ں کھولی ہیں ،جس کی وجہ سے ہمارے اذہان بھی وا ہوئے ہیں اور ہم سب نے مختلف پہلووں پرغورکیا ہے ۔ہم مل بیٹھ کر اس موضوع پر غوروفکر کررہے ہیں ۔آئندہ بھی اس طرح کے چیلنجنگ موضوعات پرسمینارہونے چاہئیں ۔اغیارہمارے اندربھی ہیں اورباہر بھی اور سب سے ہماری کشمکش اورتال میل بھی ہے ۔کوئی بچہ اپنی شناخت لے کر پیدا نہیں ہوتا ۔جس خاندان میں پیداہوتا ہے وہی اس کی شناخت بن جاتی ہے اوربارہا اس شناخت کو فرقہ وارانہ رنگ بھی دیا جاتا ہے۔خسروکی ہندوی شاعری انتہائی مؤثر ہے،جسے پڑھنے سے آنکھوں میں آنسو بھرجاتے ہیں ۔غیرکاتصوربے انتہااورلامحدود ہے۔ایک سمینارسے اس موضوع کے مکمل نتائج اخذ نہیں کیے جاسکتے ۔اس اجلاس میں تین مقالہ نگاروں نے اپنے مقالات پیش کیے ۔معروف فکشن نگارمشرف عالم ذوقی نے اپنے مقالے میں کہاکہ ہم تضادات کے درمیان ہیں ،دنیا بدل رہی ہے ۔نئی نئی غیریت جنم لے رہی ہے۔ہرجگہ غیرکا تصورموجود ہے۔شعبہ اردودہلی یونیورسٹی کے استادڈاکٹرابوبکرعبادنے اپنے مقالے میں کہاکہ اردوادب میں غیرکے تصورکو موضوع بحث بنایاگیا ہے۔اردوفکشن نے غیرکے تمام تصورات اورپہلوؤں کو روشن کیا ہے ۔اس اجلاس کے آخری مقالہ نگارمعروف ترقی پسند ناقدپروفیسرعلی احمدفاطمی نے کہاکہ پریم چند نے پہلی بارمعمولی اورغیراہم کرداروں کو اردوادب میں جگہ دی ہے۔اردوادب نے جن لوگوں کواہمیت نہیں دی تھی ،پریم چند نے بلاتفریق پورے سماج کوپیش کیا۔

سمینارکے دوسرے روز کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے معروف وممتاز ادیب وناقد پروفیسرشمیم حنفی نے کہاکہ اس موضوع کے بہانے زندگی ،کائنات اورتمام ترحالات پرنظرڈالنے کا موقع ملا ہے۔آج ہم نے بے تحاشاغیربنالیے ہیں ۔ہمارے لیے ادب کاجو حصہ پریشانی کا سبب بنے وہی ہمارے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے ۔ادب کا مقصوداصلی محض حظ کا حصول نہیں ہے۔عام طورپرجس طرح کے مقالات ہمارے سمیناروں میں پیش کیے جاتے ہیں ۔اس سمینارکے مقالات کی سطح اس سے بہت بلند ہے ۔اس اجلاس میں پروفیسر انیس اشفاق نے اپنے مقالے میں مشرق ومغرب کے ادب میں پائے جانے والے غیرکے تصور کو پیش کیا ۔انہوں نے نہ صرف نثر بلکہ شاعری سے بھی مثالیں پیش کرکے غیرکے تصورکی وضاحت کی ۔محترمہ ذکیہ مشہدی نے کہاکہ اس سمینار کا موضوع خاصا اہم ہے دیگر بہت سے ادبا افسانہ نگار،نثرنگاراورشاعربھی ہیں ۔لیکن میں افسانہ نگارہوں اور اپنے مقالے کو اسی تک محدود رکھوں گی ۔انہوں نے بھی اس موضوع پرسیرحاصل گفتگو کی۔اسی اجلاس میں معروف جدیدیت پسند فکشن نگار ڈاکٹر خالد جاویدنے تصورغیرکی فلسفیانہ تشریحات کرکے مغرب کے تمام اہم ناول نگاروں اورفکشن نگاروں پراپنی توجہ مرکوز کرتے ہوئے مشرق میں پائے جانے والے تصورغیرکو پیش کیا ۔اپنے مخصوص فلسفیانہ انداز کے مقالے میں انہوں نے اردو ادب میں غیرکے تصورکو تلاش کیا۔دہلی یونیورسٹی کی استاد ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے اپنے مقالے میں کلاسکی شاعری اورجدید شاعری میں پائے جانے والے تصورغیرکو پیش کیا۔

اس سے قبل سمینارکے دوسرے روز کے پہلے اجلاس میں صدارتی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹرضیاء الدین شکیب نے کہاکہ اس اجلاس کے تمام مقالات سراہے جانے اوردوبارابغورپڑھے جانے کے لائق ہیں ۔غالب انسٹی ٹیوٹ مبارک باد کامستحق ہے کہ اس نے اتنے اہم موضوع کو اپنے سمینارکے لیے منتخب کیا ۔ اس اجلاس میں مقالہ پیش کرتے ہوئے علی گڑھ سے تشریف لائے پروفیسرقاضی جمال حسین نے کہاکہ تصورغیرعہدبہ عہد بدلتا رہتا ہے اور ہرعہد اپنے ساتھ نئے تصورات لے کرآتا ہے ۔اسی اجلاس میں معروف افسانہ نگاردیپک بدکی نے کشمیر،پنجاب وغیرہ کے افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں کے فن میں پائے جانے والے تصورغیرکی وضاحت صراحت کے ساتھ کی ۔مصرسے تشریف لائیں ڈاکٹر رانیہ محمدفوضی نے بھی اس اجلاس میں اپنا مقالہ پیش کیا اورانہوں نے اردوادب میں غیرکے تصورپربحث کی ۔

اس اجلاس کے دوران غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹرسیدرضاحیدرنے مہمانوں ،مقالہ نگاروں اورسامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ اس موضوع پربھی ہمارے مقالہ نگاروں نے سیر حاصل گفتگو کی ہے ۔تمام مقالہ نگاروں کو ہم نے موضوع دے کر مقالہ لکھنے کی درخواست کی تھی اور تمام مقالہ نگاروں نے اپنے موضوع کا حق ادا کیا ہے ۔دوسرے روز کے تینوں اجلاس میں سامعین نے بھرپور دلچسپی لی اور مقالات پر گفتگو کی ۔مقالات پربحث کرنے والوں میں بالخصوص ڈاکٹر خالدعلوی ،ڈاکٹر ابوبکرعباد ،ڈاکٹر نجمہ رحمانی ،پروفیسرسراج اجملی اورمحترمہ ذکیہ مشہدی پیش پیش تھیں ۔اس سمینار کے پہلے دن کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ مقالہ نگاروں نے ان موضوعات پربھی گفتگو کی جن پر اردوادب کے تعلق سے کم گفتگوہوتی ہے۔مقالہ نگاروں نے اردوادب کے علاوہ دوسری زبان وادب میں جو غیرکا تصورہے ،اس پر بھی اپنے خیالات کا اظہارکیا ۔سمینارکے دوسرے روز معروف مزاحیہ شاعرپاپولرمیرٹھی کی کتاب بوم میرٹھی اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹرسہیل انورکے مضامین کامجموعہ افکارونظریات کا اجرابھی عمل میں آیا۔

سہ روزہ سمینارکے دوسرے روز شام کو ایک عالمی مشاعرے کاانعقادبھی کیا گیا ،جس کی صدارت معروف شاعرگلزاردہلوی نے کی ،معین شاداب نے نظامت کے فرائض انجام دیے اوراس عالمی مشاعرے میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے اترپردیش اردواکادمی کے چیئرمین ڈاکٹرنواز دیوبندی نے شرکت کی ۔

بین الاقوامی سمینار بعنوان’ اردوادب میں غیرکا تصور‘ کے آخری اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے جواہرلال نہرویونیورسٹی کے سابق پروفیسرپرشوتم اگروال نے کہا کہ ہم نے یہاں غیرکے تصورپرہم نے معلوماتی اورفلسفیانہ مقالات سنے اوران مقالات کو سن کر ہم نے اپنی الجھنیں اورپریشانیاں دور کیں ۔معاصرزمانے کی بدعنوانیوں اورسیاست کو ادب نے بہت پہلے درج دفترکردیا ہے ۔پریم چند کے بعد ہندی ادب میں مسلم کردارتلاش کرناجوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔مگراردوکی صورت حال ایسی نہیں ہے۔اگرپریم چند کی طرح آج کا کوئی ہندی ادیب مسلمانوں کے بارے میں کچھ لکھتا ہے توعین ممکن ہے کہ اس کی آتھنٹی سٹی کو ہی چیلنج کردیا جائے ۔زبان کا وجودہی غیرکے وجود کااثبات ہے۔ترجمے عالمی انسانیت کا عکاس ہیں ۔ہرغیرمیں اپناکچھ ہوتا ہے یااپنے جیسا کچھ ہوتا ہے۔میں عورت نہیں ہوں مگرعورت ہونے کے درد کا احساس اگرمجھ میں موجود ہے تویہ کریڈٹ ٹیگوراورپریم چند کو جاتا ہے۔ہندوستانی تہذیب وتمدن نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے اوراسے عیاں کرنے میں آگ کا دریا کااہم کردار ہے ۔اس لیے وہ ناول میرے لیے انتہائی اہم ہے۔ادب صرف وہ نہیں ہوتا جوبلاتاخیرسمجھ میں آجائے بلکہ ادب وہ ہوتا ہے ،جو اپنی تفہیم کرانے سے پہلے ہمیں پریشان کرے۔دراصل ادب ،قاری اورمصنف کے لیے غیرکے تصورعکاس ہے۔پروفیسراگروال نے اپنے اختتامی خطاب میں ہم عصرسیاست ،ادب ،قارئین ،سامعین اورادبا کے عملی رویوں پربھی خاطرخواہ روشنی ڈالی ۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسرصدیق الرحمان قدوائی نے کہاکہ غالب انسٹی کے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ پروفیسرپرشوتم اگروال اورپروفیسراپوروانند یہاں تشریف لائے ۔جومقالات اس سمینار میں پڑھے گئے وہ اتنے ٹھوس،مستحکم اورپائیدارہیں کہ اس سے پہلے میں نے اس طرح کے موضوعات پر اتنے اچھے مقالات نہیں سنے ۔ہمارے یہاں صلاحیتیں ،سنجیدگی سے لکھنے والے افراد موجود ہیں مگرہمارا مزاج یہ بن چکا ہے کہ ہم اردو والے ہیں تو شعر ہیں پڑھیں گے یافلم کے ڈائیلاگ لکھیں گے۔اس سمینار کے مقالات ،بحث بہت معیاری ہیں آپ سب کا شکریہ کہ آپ حضرات نے سمینار میں شرکت کی ۔مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی اسی طرح ہمارا رشتہ مستحکم رہے گا۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدرنے کہا کہ اتنے ادق موضوع پر بہترین مقالات پیش کیے گئے ۔مجھے امید ہے کہ یہ مقالات جب شائع ہوں گے تو ان سے زیادہ استفادہ کیاجائے گااوران مقالات کا مجموعہ ایک دستاویز ثابت ہوگا۔یہ ایسا موضوع تھا ،جس پر ہندی اوراردو والوں نے یکساں دلچسپی لی ،ہم آئندہ بھی اسی طرح کے موضوعات کا انتخاب کریں گے تاکہ ہمارے تمام اسکالراعلی فکری صلاحیتوں سے لیس ہوکر اورکافی غوروفکر کے ساتھ اپنے مقالات لکھیں گے ۔انہوں نے اس موقع پر تمام مہمانوں ،مقالہ نگاروں اورسامعین کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے پروفیسر پرشوتم اگروال کا استقبال کرتے ہوئے ان کی خدمت میں گلدستہ بھی پیش کیا اور کہاکہ اس موضوع نے ہم سب کو ایک اسٹیج پر لانے کا کام کیا ہے اور ہم نے یہ کوشش کی تھی کہ موضوع کی تمام جہتیں کھل کر سامنے آئیں یہی وجہ ہے کہ ملک اوربیرون ممالک کے اسکالروں نے بھی بھرپور طریقے سے اپنے موضوع کا حق ادا کیا ہے ۔

خیال رہے کہ اس آخری سیشن سے پہلے یعنی چھٹے اجلاس کی صدارت بھی پروفیسرصدیق الرحمان قدوائی نے کی اور اس سیشن میں ڈاکٹر خالد قادری ،ڈاکٹریوسف عامراورڈاکٹرسرورالہدی نے اپنے مقالات پیش کیے ،جس میں موضوع کی مختلف جہتوں پر بحث کی گئی ۔

پانچویں سیشن کی صدارت ہندی کے معروف ادیب پروفیسراپوروانند ،استاذ دہلی یونیورسٹی نے اپنی صدارتی تقریرمیں کہاکہ غیر کا تصوراس زمانے میں کچھ زیادہ ہی اپنے بال وپر بکھیر رہا ہے ،اب یہ دیکھیں کہ میں خودآپ سب کے لیے غیرہوں ۔ایسے ایسا بالکل نہیں ہے کہ غیرکاتصورکوئی نیا تصورہے ۔زمانہ قدیم سے ہی یہ تصورہمارے سماج میں پایا جاتا ہے ۔کئی بار غیرکا تصورمرکزیت کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اورایک مخصوص قوم یا طبقے کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے۔تاکہ لوگ دوحصوں میں منقسم ہوجائیں ۔خواہ یہ رویہ کوئی بھی اختیارکرے مگر یہ تو ماننا ہوگاکہ وہ غیرکے تصورکو مستحکم کررہا ہے ۔انہوں نے اس موقع پر اپنے سیشن اور اس سے پہلے کے اجلاسوں میں پیش کیے گئے مقالات کی فراخ دلی کے ساتھ ستائش کی ۔اس اجلاس میں ڈاکٹرضیاء الدین شکیب ،پروفیسرابوالکلام قاسمی،پروفیسرقاضی افضال حسین نے اپنے مقالات پیش کیے ،اس سیشن میں غیرکے تصور کا لسانی جائزہ ،نظموں میں غیرکاتصوراوراقبال کی شاعری میں غیرکے تصور کی تلاش وجستجو کی گئی۔

سمینار کے آخری دن کے پہلے سیشن میں کی صدارت کرتے ہوئے معروف ناقد وفکشن نگارپروفیسرانیس اشفاق نے کہاکہ غیرکے تصورکے اتنے اطراف وجوانب ہیں ،جن کا احاطہ ایک سمینار کے ذریعہ نہیں کیا جاسکتا ۔اس سیشن میں ڈاکٹردرگاپرشاد گپت نے معاصر دنیا کو پیش نظررکھ کر غیرکے تصورکو پیش کیا۔پروفیسرشافع قدوائی نے اردو اوردیگر زبانوں میں پائے جانے والے غیرکوتصورکا جائزہ لیا۔کینیڈا سے تشریف لائے جاوید دانش نے ڈراموں میں پائے جانے والے غیرکے تصورپر اپنے ڈراموں کے خصوصی حوالے سے گفتگوکی ۔سمینارکی تمام تقریبات میں تمام شعبوں کی معززشخصیات کے ساتھ عوام نے بھی شرکت کی ۔

غالب تقریبات کے اختتام پر شام چھ بجے ہم سب ڈرامہ گروپ(غالب انسٹی ٹیوٹ) کی طرف سے معروف ڈرامہ نگار اشوک لال کا تحریر کردہ اُردو ڈرامہ ’’بدھ غالب‘‘ پیش کیاگیا ،اس کی ہدایت کے فرائض بھی اشوک لال نے انجام دئے ۔

Check Also

یومِ غالب پر بین الاقوامی سمینارکا انعقاد

یوم غالب فروری ٢٠١٤  غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ، آغاخان فاؤنڈیشن، انجمن ترقی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے