شام شہر یاراں کے تحت تین ریسرچ اسکالرز کی کتابوں پر مذاکرہ

مارچ  2017

نئی دہلی،مورخہ 28مارچ2017:غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی کے زیر اہتمام شام شہر یاراں کے تحت تین ریسرچ اسکالرز کی کتابوں پر مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔اس جلسے کی صدارت پروفیسر عبدالحق صاحب نے فرمائی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے شرکت کی۔ اس جلسے میں جے این یو کے ریسرچ اسکالر رضی شہاب کی کتاب’ افسانے کی شعریات‘ ، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے حال ہی میں پی ایچ ڈی کرنے والے محمد مقیم کی کتاب ’کلیات غزلیات ناسخ ‘ اور دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر محمد نظام الدین کی کتاب ’مولانا آزاد کے صحافتی تراجم اور اردو ترجمہ نگاری ‘ پر مقررین نے بھرپور اظہار خیال کیا ۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے فعال ڈائریکٹر ڈاکٹر رضا حیدر نے مہمانوں کا استقبال کرنے کے بعدکتابوں کا تعارف پیش کیا اور تینوں کتابوں کے تعلق سے چند اہم باتیں کہیں۔ معروف دانشور اور ادیب پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ رضی شہاب کی کتاب کافی حد تک ٹیکنیکل ہے تاہم یہی اس کتاب کی خوبی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ادیب افسانے کے فن پر لکھی گئی کتابوں کو پڑھ کر افسانہ نہیں لکھتا لیکن اس کی تنقید لکھتے وقت ان باتوں سے آگاہی ضروری ہے جن کی طرف ’افسانے کی شعریات‘ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت ہی خوش آئند ہے کہ کوئی نوجوان ناسخ کی کلیات مرتب کرے۔ پروفیسر عبدالحق نے طلبا کی کتابوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ متون کی ترتیب و تدوین بہت اہم اور بڑاکام ہے اور کوئی جرأت مند شخص ہی اس کام میں ہاتھ لگا سکتا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ متن کے بغیر تنقید واہمہ ہے ۔ اس لیے ایک نوجوان ریسرچ اسکالر کے ذریعے کلیات غزلیات ناسخ کی ترتیب اپنے آپ میں ایک بڑی بات ہے۔ انہوں نے نظام الدین کی کتاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کوئی نوجوان اگرابوالکلام آزاد کے کسی ایسے اہم گوشے کی بازیافت کی جسارت کررہا ہے تو یہ قابل مبارکباد عمل ہے ۔الہ آباد سے اس پروگرام میں خصوصی شرکت کے لیے تشریف لانے والے مہمان پروفیسر علی احمد فاطمی نے کہا کہ رضی شہاب کی کتاب بہت اہم ہے اور میں نے اس کتاب کو اپنی میز پر رکھ چھوڑا ہے ۔ جلد ہی اس کے بارے میں اپنی رائے تحریر بھی کروں گا ۔ حالانکہ یہ کتاب کافی ٹیکنیکل ہے مگر یہ اس نووارد ریسرچ اسکالر کی ذہانت کی بھی غماز ہے۔ ڈاکٹر سفینہ نے افسانے کی شعریات کے حوالے سے اپنی باتیں رکھیں اور کتاب کا بھر پور تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جگہوں پرتکرار کی کیفیت سے بچا جا سکتا تھا لیکن کتاب بہت اہم ہے اور ہم طالب علموں کے لیے بہت مفید ہے۔پروفیسر احمدمحفوظ نے مصنفین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ باعث خوشی ہے کہ ان میں سے دو کتابوں کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ فاروقی صاحب سے ہے اور وہ اس مذاکرے میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود ہیں۔ پروفیسر معین الدین جینابڑے نے بہت ہی مختصر مگر جامع خطاب فرمایا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اگر ہمیں کچھ طلبا ایسے ملیں جن کے اندر کچھ صلاحیتیں ہوں تو ہمیں انہیں پروان چڑھانے کے لیے محنت کرنی چاہیےے اور انہیں ایسے مواقع ملنے چاہییں کہ وہ پھلیں پھولیں اور اس سلسلے میں غالب انسٹی ٹیوٹ قابل مبارکبادہے کہ اس نے ان بچوں کے لیے ایسے مذاکرے کا اہتمام کیا۔ پروفیسر ابن کنول نے طلبا کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ جب بھی کچھ لکھیں تو اسے اپنے اساتذہ کو دکھا لیں تاکہ بہت سی معمولی غلطیاں نہ ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ ریسرچ اسکالرز کو اپنے ایم فل اور پی ایچ ڈی سے ہٹ کر بھی کچھ لکھنا چاہیے تاکہ ا ن کی قلمی صلاحیت پروان چڑھے اور اسے اعتبار حاصل ہو سکے۔ اس حوالے سے انہوں نے نظام الدین کو مبارکباد دی کہ ان کا یہ کام صرف اورصرف ان کی دلچسپی کا نتیجہ ہے۔اس جلسے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر عزیر اسرئیل نے انجام دئے۔ مذاکرے میں جرمنی سے آئے ہوئے مہمان جناب عارف نقوی، جناب اطہر فاروقی، ڈاکٹر سرورالہدی ، معروف افسانہ نگارنگار عظیم، جناب حسنین اختر، رخشندہ روحی ، وسیم راشد،ڈاکٹر سہیل انور، یاسمین فاطمہ اور جاوید رحمانی کے علاوہ جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Check Also

ڈاکٹر نجمہ رحمانی کی کتاب پر مذاکرہ

اگست 2015 غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام شام شہریاراں کے موقع پر ڈاکٹر نجمہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے