Home / مزاکرہ / ڈاکٹر نجمہ رحمانی کی کتاب پر مذاکرہ

ڈاکٹر نجمہ رحمانی کی کتاب پر مذاکرہ

اگست 2015

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام شام شہریاراں کے موقع پر ڈاکٹر نجمہ رحمانی (شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی) 

کی کتاب ’’اردوافسانہ کا سفر‘‘ پرایک پروقار مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔اس مذاکرہ کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی۔ مذاکرہ کے ابتدا میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ کتاب طلباء،اساتذہ اور اہل علم کے لیے ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب میں ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے نئے اردو افسانے کے تعلق سے ممتازادیبوں اور دانشوروں کے مضامین کو جمع کرکے موضوع کے ہر پہلو علمی مباحث قائم کیے ہیں۔پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ محفل’ شامِ شہرِ یاراں‘کے موقع پر اس علمی کتاب پر خاطر خواہ بحث ہوئی ۔ادب کی دنیا میں ترمیم و اضافے ہوتے رہتے ہیں اس لئے عدم تکمیل کا احساس تو رہے گا لیکن ان کی اس کوشش پر مجھے ذاتی خوشی ہوئی ۔ڈاکٹرابوبکرعباد نے کہا ہے کہ ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے اس کتاب سے افسانے کی تاریخ بھی مرتب کی ہے،افسانے کے فن پربھی بحث کی ہے اور افسانے کے حوالے سے نظریاتی مبحث بھی پیش کی ہے۔ڈاکٹر خالد جاوید نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک عرصے سے ایسی کتاب کا انتظار تھا جو افسانے کی تشریح وتفہیم کا حق ادا کر سکے ،ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے اس کمی کو پور اکیا۔جناب خورشید اکرم نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ افسانہ پڑھی جانے والی صنف ہے،اب قاری ہی مفقود ہوتے جارہے ہیں پھر بھی ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے اس نوعیت کی کتاب ترتیب دے کر قاری کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ افسانے اور غیر افسانے میں تفریق کو سمجھا جائے۔ ڈاکٹر خالد علوی نے اس کتاب کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے منتخب معیاری افسانوں کو بھی انتخاب میں جگہ دی ہے ،انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر جو ہورہا ہے اُسے اخباروں میں پڑھتے ہیں لیکن گھروں کے اندر جو ہوتا ہے اسے کتابوں و افسانوں میں ہم محسوس کرتے ہیں ۔پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے ڈاکٹر نجمہ رحمانی کو ان کی اس کتاب کے لئے مبارک باد دیا۔بالخصوص کتاب کے مقدمہ کے لئے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ میں انہوں نے ایسے مباحث قائم کئے ہیں کہ جوکتاب کا حق ادا کرتے ہیں۔پروفیسر شمس الحق عثمانی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آخر کیا وجہ کہ غزل اور افسانے ایک ہی دورمیں آنکھیں کھولیں۔لیکن افسانہ پیچھے کیوں رہ گیا؟آپ نے مزید کہا کہ ۳۷ مضامین پر مشتمل اس کتاب میں کم از کم پندرہ ایسے مضامین ہیں جو از سرِ نو تفہیم کی دعوت دیتے ہیں ۔اس کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے اس مذاکرہ میں اپنے خیالا کا اظہار کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کا شکریہ ادا کیا۔اس جلسہ میں بڑی تعداد میں طلباء، اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز شامل تھے۔

Check Also

غالب انسٹی ٹیوٹ میں راشد انور راشدکی کتاب پر مذاکرہ

جنوری 2016 غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہریاراں کے موقع پر۲۸جنوری کی شام میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے