ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی کتاب ’’مابعدنوآبادیات۔اردو کے تناظر میں‘‘پرایک مذاکرے کااہتمام

ستمبر 2014

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہرِ یاراں کے موقع پرپاکستان کے ممتاز نقاد ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی کتاب ’’مابعدنوآبادیات۔اردو کے تناظر میں‘‘پرایک

مذاکرے کااہتمام کیاگیا۔ اس مذاکرے کی صدارت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ ناصر عباس نیّر اردو کے ایک اہم نقّاد ہیں، اُن کی اس اہم کتاب پر مذاکرے سے ہمیں اس لئے بھی خوشی محسوس ہورہی ہے کہ اس کو پڑھ کر ہمیں مابعد نوآبادیاتی مسائل کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ آپ نے مزید فرمایاکہ یہ کتاب ہماری علمی دنیا میں اس لئے اہمیت کی حامل ہے کہ یہ اپنے موضوع کے اعتبار سے اردو کی پہلی کتاب ہے۔

اس جلسے کے مہمانِ خصوصی پروفیسر شمیم حنفی نے اپنی گفتگو میں کہا نئے خیال کے بارے میں سوچنا نئی زندگی کا پتہ دینا ہے۔ آتش رفتہ کے سراغ نے ہمیں ذہنی بیماری کی صورت میں مبتلا کردیاہے۔ ۱۹ویں صدی اتنی پیچیدہ صدی ہے کہ اس سے سرسری نہیں گزرا جاسکتا۔ ناصر عباس نیّر نے اپنی ادبی روایت کو جدید عناصرکی روشنی میں سب سے عمدہ طریقے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بہت غیر معمولی اور پختہ ذہن رکھنے والے اسکالر ہیں۔ ناصر عباس نیّر علمی شرائط اور تقاضوں کو کبھی نظرانداز نہیں کرتے۔اس کتاب کوپڑھے بغیر ہم آج کے آشوب کو نہیں سمجھ سکتے۔

پروفیسر شافع قدوائی نے کہاکہ مابعد نوآبادیات پر گفتگو کاآغازتو ناصرعباس نیّر نے نہیں کیا مگر سب سے سے زیادہ مضامین انہوں نے ہی لکھے ہیں۔ علم کاجوکھیل ہے دراصل وہ طاقت کا کھیل ہے فاتح قوم اپنی مفتوح قوم کے سامنے ثقافتی ایجنڈا پیش کرتی ہے۔ ناصر عباس نے ان تمام پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ ناصر عباس نیّر نے آزاد اور سرسید کی تحریوں کا بہت سنجیدگی سے مطالعہ کیاہے۔

فرحت احساس نے فرمایاکہ اردو میں تنقیدی رجحانات کو جذب کرنے کے بجائے اگلنے کی کوشش عام رہی ہے ناصر عباس نیّر نے مغربی چیزوں کو اگلنے یا ہوبہو پیش کرنے کے بجائے شفافیت کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ جب کچھ لکھتے ہیں تو وہ ہرجگہ موجود رہتے ہی۔ وہ صرف مرکز میں ہی نہیں اس کے مضافات کا بھی احاطہ کرتے ہیں۔

خالدعلوی نے ناصر عباس کی کتاب میں شامل مضامین پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ناصر عباس نیّرنے آزاد کے حوالے سے جو کچھ لکھاہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہو ں نے پہلی مرتبہ اس موضوع پر کچھ لکھنے کی کوشش کی اس لیے ناصر عباس نیّر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ساتھ ہی غالب انسٹی ٹیوٹ بھی قابل مبارک با دہے کہ اس نے اس کتاب پر مذاکرہ کا اہتمام کیا۔

ڈاکٹرسرورالہدی نے کہا کہ مابعد نوآبادیات کے بنیادی نکات پر ناصر عباس نیّر کی جیسی گہری نظرہے وہ اردو میں کہیں اور مشکل سے ملے گی اور اُن کے یہاں اس کی تفہیم میں کسی طرح کی جذباتیت نہیں ہے۔ عام طورپر لوگ مابعد نوبادیات کے سلسلے میں فیشن زدگی کے شکار ہیں اس ماحول میں ناصر عباس نیّر کی یہ کتاب اسکالرشپ اور احساس ذمہ داری کی ایک بڑی مثال ہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے جلسہ کی نظامت کرتے ہوئے کتاب کا تعارف پیش کیا اور فرمایا کہ اردو میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے جس میں ۱۹ویں صدی کے اردو زبان و ادب کے اُن محرکات کو معروضی طریقے سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے جن کا تعلق نوآبادیاتی ذہن سے ہے۔ اس جلسہ میں بڑی تعداد میں اہل علم موجود تھے۔

Check Also

غالب انسٹی ٹیوٹ میں راشد انور راشدکی کتاب پر مذاکرہ

جنوری 2016 غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہریاراں کے موقع پر۲۸جنوری کی شام میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے