مخطوطات کی اہمیت پر دو روزہ سمینارمنعقد

جون 2014 

غالب انسٹی ٹیوٹ اور رامپور رضالائبریری کے زیراہتمام ’’رامپور رضالائبریری اور غالب انسٹی ٹیوٹ میں موجود فارسی اور اُردو کے مخطوطات، تاریخ، ادب اور ثقافت کا مآخذ‘‘ کے موضوع پرمنعقدہونے والے سمینار کے افتتاحی اجلاس میں معروف فارسی اسکالراورانسٹی ٹیوٹ آف پرشین ریسرچ (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)کی ڈائرکٹرپروفیسرآذر میدُخت صفوی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے رام پور رضالائبریری اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے مخطوطات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ان دونوں لائبریریوں میں رکھے ہوئے مخطوطات ہماری علمی،ادبی ،تہذیبی اور تاریخی زندگی کانہایت قیمتی سرمایہ ہے۔ خصوصاً انہوں نے رضا لائبریری کے مخطوطات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں رکھے ہوئے مخطوطات اتنے نادر اور نایاب ہیں کہ اس کی مثال دنیا کے کسی خطے کی لائبریری میں کم ہی دکھائی دیتی ہے۔آپ نے یہ بھی فرمایاکہ مخطوطات کی کیٹلاگ سازی کابھی پورا خیال رکھنا چاہیے۔ اور مجھے پوری امید ہے کہ مخطوطات کی افادیت پر ہونے والے اس سمینار کے اختتام کے بعد ہم اس نتیجے پر ضرورپہنچیں گے جو ہماری علمی دنیا میں کافی سودمند ثابت ہوں گے۔پروفیسر صفوی نے اپنی تقریر میں غالب انسٹی ٹیوٹ اور رضالائبریری کی تاریخی حیثیت پر بھی گفتگو کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ دونوں ادارے اپنی شاندارعمارتوں کے ساتھ ساتھ اہم علمی و ادبی امور بھی انجام دے رہے ہیں ۔ رام پور رضا لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر سید محمد عزیز الدین حسین نے اپنی افتتاحی تقریر میں رضالائبریری رام پور کے مخطوطات کی اہمیت پرگفتگو کرتے ہوئے فرمایاکہ رضا لائبریری رام پور میں موجود بیشتر مخطوطات ایسے ہیں جن کاپوری دنیامیں کوئی دوسرا نسخہ موجود نہیں ہے۔یہاں عربی،فارسی، اردو،پشتو،سنسکرت، ترکی اوردیگر زبانو ں کے تقریباً ۱۷ ہزار مخطوطات ہیں جو اپنے سرمایہ کے اعتبار سے پورے برصغیر میں امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ پروفیسر سید محمد عزیز الدین حسین نے رام پور رضالائبریری کے شائع ہوئے مخطوطات پرتبصرہ کرتے ہوئے فرمایاکہ یہاں کے بیشترمخطوطات کتابی شکل میں شائع ہوکر علمی دنیامیں کافی مقبول ہو رہے ہیں۔تاریخ فیروزشاہی اوررامائن کے ترجمہ کابھی آپ نے خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے صدارتی خطبہ میں اپنی نوعیت کے اعتبار اس منفرد سمینار پر خوشی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقیناًیہ سمینارطلبا ،ریسرچ اسکالر،اساتذہ اور اہل علم کے لیے کافی معاون ثابت ہوگا۔آپ نے یہ بھی فرمایاکہ آج بھی ہمارے ملک کے چھوٹے چھوٹے شہروں ،قصبات اوردیہات کے بیشتر گھروں میں اردو اور فارسی کی ایسی چیزیں مل جائیں گی جوہماری علمی زندگی میں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں مگر وقت اور حالات کی وجہ سے ان پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ہم نے اپنے اس قیمتی ورثہ کو سنبھال کر نہ رکھاتو ہم اپنی شاندار تاریخ سے محروم ہوجائیں گے۔مشہور ماہر تعلیم اورنیشنل یونیورسٹی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر سید عرفان حبیب جو اس سمینار میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیاکہ آج بھی اس ملک میں مخطوطات کا اتنا عظیم سرمایہ موجود ہے کہ جتنا اہم اور معتبر سرمایہ دنیا کے کسی ملک میں کم ہی ہے۔آپ نے یہ بھی فرمایاکہ آ ج بھی ہندستان کی بے شمار ایسی لائبریری اور ادارے موجود ہیں جہاں مخطوطات کا اہم ذخیرہ ہے مگر بے توجہی کی وجہ سے وہ تمام ذخائرتباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ذاتی ذخیرہ بھی لوگوں کے پاس کافی موجود ہیں مگر وہ تمام ذخائر انتہائی خراب حالت میں ہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹرڈاکٹررضاحیدر نے اپنی گفتگو میں فرمایاکہ مخطوطات ہماری علمی ادبی، تہذیبی اور تاریخی وراثت کا اتنا عظیم سرمایہ ہے کہ اگر ہم نے ان پر توجہ نہیں دی توہم ماضی سے کٹ جائیں گے اور ہماری شناخت ختم ہوجائے گی۔آج پوری دنیامیں مخطوطات کے تحفظ پر انقلابی سطح پر بھرپور توجہ دی جارہی ہے اوراس ملک میں سرکاربھی اس کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔آپ نے اس بات پر افسوس کااظہارکیاکہ ماضی میں ہماری بے توجہی کی وجہ سے ہمارے ملک کی اہم لائبریریوں اور اداروں کے مخطوطات بیرونِ ملک کی لائبریریوں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر رضاخیدر نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے مخطوطات کاتعارف کراتے ہوئے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ میں رکھے ہوئے مخطوطات علمی اعتبار سے کافی اہم ہیں اور ان پروقتاً فوقتاً تحقیق ہونے کی ضرورت ہے۔اس موقع پرشاہد ماہلی نے بھی مخطوطات کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مخطوطات کے تحفظ پر اگر ہم نے توجہ نہیں دی تو یہ تمام سرمایہ ہماری علمی اور تہذیبی زندگی سے ختم ہوجائیں گے۔ افتتاحی کے اجلاس کے بعد دو اور اجلاس ہوئے جس میں پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر ریحانہ خاتون، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر نسیم احمد نے صدارتی فریضہ کو انجام دیا اور ڈاکٹر کلیم اصغر، ڈاکٹر اخلاق احمد آہن ، جناب شاہد ماہلی ،ڈاکٹر ارشاد ندوی، محترمہ پریتی اگروال اور سیدنوید قیصرشاہ نے مقالات پیش کیے۔ ان دونوں اجلاس کی نظامت کا فریضہ ڈاکٹر کلیم اصغر اورسید نوید قیصر شاہ نے انجام دیا۔ 

سمینار کے دوسرے دن اردو وفارسی کے اہم اسکالرز نے رضالائبریری رامپوراور غالب انسٹی ٹیوٹ میں موجود مخطوطات کی اہمیت و افادیت پر اہم گفتگو کی۔ دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں ڈاکٹرقمر عالم،ڈاکٹر احتشام الدین،پروفیسر حسن عباس، ڈاکٹر شمس بدایونی، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر ریحانہ خاتون، پروفیسر چندر شیکھر،پروفیسر شریف حسین قاسمی نے رامپور رضالائبریری اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے اُن اہم مخطوطات پر گفتگو کی جو ہماری علمی، ادبی، تہذیبی اور تاریخی وراثت کااہم مآخذ ہیں۔ خصوصاً پروفیسر چندر شیکھر، پروفیسر عراق رضا زیدی اور پروفیسر شریف حسین قاسمی نے اپنی عالمانہ گفتگو میں اس بات پرزور دیاکہ اگر ہم نے اپنے اس قیمتی ورثے کی حفاظت نہیں کی تو ہم اپنی شاندار تہذیب و راثت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجائیں گے۔اس اجلاس کی صدارت پروفیسر آذر میدُخت صفوی اور پروفیسر سیدمحمد عزیز الدین حسین نے کی اور نظامت کافریضہ ڈاکٹر شعیب رضا خاں نے انجام دیا۔سمینار کے آخری اجلاس میں ہیمنت شکلا، محترمہ ساجدہ شیروانی، ڈاکٹر تبسم صابر، ڈاکٹر مشتاق تجاروی، ڈاکٹر وسیم بیگم اور پروفیسر نسیم احمد نے مقالات پیش کیے۔ اس اجلاس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ڈاکٹر وسیم نے۴۰۰صفحات پر مشتمل غالب انسٹی ٹیوٹ سے شائع ’’دیوانِ عارف‘‘ کا جائزہ لیا جسے آپ نے خود ترتیب دیاہے۔اس اجلاس میں ڈاکٹر شمس بدایونی، پروفیسر حسن عباس اور پروفیسر 

چندرشیکھر نے صدارتی فریضے کو انجام دیااور نظامت ڈاکٹر سہیل انورنے کی۔

ان تمام مقالات میں اسکالرز کابنیادی مقصد یہ رہاکہ وہ جہاں ان دونوں علمی مراکز کے امتیازی قلمی نسخوں کا تعارف کرائیں وہاں ان کے مطالب و مشمولات کی سماجی، تہذیبی اور تاریخی اہمیت و مناسبت پر روشنی بھی ڈالی۔ ان مقالات پر بحث و مباحثہ بھی ہواجس سے یہ نتیجہ نکلاکہ یہ علمی و ادبی و تاریخی مآخذ خاص طورپر ہمارے قرون وسطی کی زندگی کے ہر پہلو کو روشن کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ہمارے ادب کی گوناگونیت اور اس کا تنوع اور سارے ہندستان میں اس کے رواج و اثرات پربھی گفتگو ہوئی۔ بعض ایسی کتابوں کا بھی اسکالرز نے اپنے مضامین میں ذکرکیاجن میں ہماری سماجی رسموں کا تفصیل سے ذکر ملتا ہے۔ان دو دنوں میں دہلی اور بیرونِ دہلی کے ریسرچ اسکالرز، اساتذہ کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے اہم افراد نے شرکت کی اس اہم سمینار میں پاکستانی سفارت خانے کے چنداہم سفارت کاربھی موجود تھے اوردونوں دن اردو فارسی و تاریخ کے علما وفضلاکی عالمانہ گفتگو سے مستفید ہوئے۔ سمینار کا اختتام رضالائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر سید محمد عزیز

الدین اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرکے اظہار تشکر سے ہوا۔

 

Check Also

غالب انسٹی ٹیوٹ میں غلام ربانی تاباں پرکل ہند سمینارمنعقد

مارچ 2015 کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین،غالب انسٹی ٹیوٹ اور دہلی اردو اکادمی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے