Home / میموریل لیکچر / غالب انسٹی ٹیوٹ میں فخرالدین علی احمدمیموریل لکچرکاانعقاد

غالب انسٹی ٹیوٹ میں فخرالدین علی احمدمیموریل لکچرکاانعقاد

جون 2014

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ۲۴ مئی کو ’’ہندستان کی قومی تحریک کی تاریخ پرمختلف نظریات‘‘کے موضوع پرفخرالدین علی احمدمیموریل لکچرمنعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ممتاز مؤرخ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ایمریٹس عرفان حبیب نے فرمایاکہ قومی تحریک ہندستان کی اہم تحریکوں میں سے ایک ہے اور اس تحریک کی اہمیت کوکبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ قومی تحریک کے بارے میں مؤرخوں کے درمیان جو موضوعات ہیں ان پر بحث کی جانی چاہیے، ۱۸۸۵ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی ابتدا کے بعد قومی تحریک کے مخالفین میں کیا تصور تھااوراب قومی تحریک کاکیا نظریہ ہونا چاہیے اس پر خاطر خواہ روشنی ڈالی جانی چاہیے۔آپ نے مزید کہاکہ روشن خیال لوگوں کی نظر میںیہ تحریک اصلاحی تحریک تصور کی جاتی تھی۔ اس ضمن میں آپ نے گاندھی جی اور مختلف مفکرین کے نقطۂ نظر پر بھی مختصراً روشنی ڈالی۔ قومی تحریک کی افادیت کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ تحریک ایک مشن تھی جوسرمایہ داروں کے تصور کی نفی کرتی ہے اور کسانوں اور مزدوروں کو اس کااپناحق دلانے کی تائید کرتی ہے۔ بعض مؤرخوں کے نقطۂ نظر کاحوالہ دیتے ہوئے آپ نے کہاکہ اس تحریک نے دو قومی نظریہ کی بھی نقطہ چینی کی تھی۔ برٹش رول ان انڈیا۱۹۳۴ء میں اربندوگھوش کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہندستان کے لوگوں کااصول تشدد نہیں ہے بلکہ شکتی ہے۔لیکن بدقسمتی سے بعض سخت گیر تنظیموں نے ہندستان کے بجائے ہندوستھان کانعرہ دیا جس نے قومی تحریک کے مشن کونقصان پہنچایا۔پروفیسر عرفان حبیب نے اپنے اختتامی کلمات میں یہ بھی کہاکہ موجودہ دورمیں قومی تحریک کوسمجھنے اور سمجھانے کی بیحد ضرورت ہے۔اگرہم نے قومی تحریک کے اصول و نظریات سے لوگوں کو واقف نہ کرایاتویہ تحریک بھی دم توڑ دے گی۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے افتاحی کلمات میں کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیاں بہت محدود تھیں لیکن اب اس کے موضوعات کو وسیع کیاگیا۔ مختلف نظریات،پہلوؤں اور روایتوں کے موضوعات پرلکچر کرایا جاچکاہے اور کرایا جارہاہے۔ پروفیسر عرفان حبیب کاذکر کرتے ہوئے آپ نے کہاکہ پروفیسر عرفان حبیب کی کی تحریریں، اور تقریریں اتنی اہم ہیں کہ اور ان سے ہندستان اوردیگر ممالک کے اسکالرز استفادہ کرتے ہیں اورآپ اپنے عہد کی تاریخ کو بہت خلوص کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اپنی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر پرویز علی احمد،وائس چیئرمین،غالب انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ پروفیسر عرفان حبیب کے اس لکچر سے موجودہ صورت حال اور قومی تحریک کو سمجھنے میں ضرورمددملے گی۔پروفیسر عرفان حبیب کی دانشوری کاذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز نے مزید کہاکہ آپ کے اہم لکچرز ملک اوربیرونِ ملک میں بھی بڑے قدر کی نگاہوں سے پڑھے اور سنے جاتے ہیں۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدر نے نظامت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے فخرالدین علی احمد میموریل لکچر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ فخرالدین احمد لکچرغالب انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں کاایک اہم حصہ ہے۔اس موقع پرملک کے اہم دانشوروں اورمؤرخوں نے اپنے خیالات کااظہارکیاہے۔اور آج پروفیسر عرفان حبیب کی موجودگی نے اس لکچر کے وقار میں اضافہ کیاہے۔اس لکچر میں دہلی ہائی کورٹ کے جج اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے ٹرسٹی جسٹس بدر دُرریزاحمدکے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ،جواہر لعل نہرو،دلی یونیورسٹی،اوردلی یونیورسٹی کے کالجوں کے اردو ،فارسی اورتاریخ کے اساتذہ،اسکالرز اورطلبا کے علاوہ وکلاء،دہلی ہائی کورٹ کے ججز اور مختلف علوم و فنون کے افراد کثیر تعداد میں موجود تھے۔  

تصویر میں دائیں سے: ڈاکٹر رضاحیدر، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر عرفان حبیب، ڈاکٹر پرویز علی احمد، جسٹس بدر دُرریزاحمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے