Home / کالم / غالب انسٹی ٹیوٹ میں شامِ شہریاراں میں اقبال مرزا کو خراجِ عقیدت

غالب انسٹی ٹیوٹ میں شامِ شہریاراں میں اقبال مرزا کو خراجِ عقیدت

ستمبر 2014

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہرِ یاراں کے موقع پر لندن کااہم رسالہ ’’صدا‘‘ کے مدیر ڈاکٹر اقبال مرزاکی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک ادبی نشست کااہتمام کیاگیا، اس جلسے کی صدارت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ اقبال مرزارہتے تو لندن میں تھے مگر علمی اعتبار سے وہ ہمارے بے حد قریب تھے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ سے اُن کا گہرا رشتہ تھاوہ ادارے کے ہر بڑے جلسوں میں لندن سے تشریف لاتے تھے اور اور ہم اُن کے خیالات سے مستفید ہوتے تھے۔

شاہد ماہلی نے اپنی گفتگو میں کہاکہ اقبال مرزا لندن میں رہتے تھے مگر لندن میں رہ کر لکھنوی تہذیب کی وراثت کے امین بنے ہوئے تھے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے اور اُن کی ہر کتاب کوعلمی و ادبی دنیامیں عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا گیا۔آج اقبال مرزا ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ہمیں پوری امیدکہ وہ اپنے علمی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔

اس موقع پر پروفیسر صادق نے اپنی گفتگو میں فرمایاکہ اقبال مرزا اہم شاعر نہیں تھے، اہم ادیب بھی نہیں تھے تاہم ان کی شعرگوئی اور علمیت سے انکار ممکن نہیں۔ لندن سے ماہنامہ ’صدا‘ کی ادارت ان کا ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔ یہ رسالہ تقریباً ۱۹برس تک پابندی کے ساتھ اپنے بل پر شایع کرتے رہے جس کی یورپ اور امریکہ میں بڑی پذیرائی ہوتی رہی۔

پروفیسر علی احمد فاطمی نے اُن کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایاکہ وہ ایک اچھے ادیب،شاعراور نہایت ہی اچھے انسان تھے۔ وہ اپنے رسالے میں اپنے اداریوں کے ذریعے اپنے نقطۂ نظر کی صحیح ترجمانی کرتے تھے۔ اسلامیات کابھی مطالعہ تھااور کئی اسلامی کتابوں کو انہوں نے ترتیب دیا۔آپ کے انتقال سے یورپ کی اردو دنیاکوبھی کافی نقصان پہنچا ہے۔

پروفیسر محمودالحسن صاحب نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اقبال مرزا کی زندگی سے وابستہ اتنی یادیں ہیں جن کو اگر لکھا جائے تو ایک کتاب تیار ہوجائے گی۔وہ لندن میں رہ کر لکھنؤ کی نمائندگی کرتے تھے۔ اور انہیں اپنی لکھنوی تہذیب پربڑا ناز تھا۔

ڈاکٹر وسیم راشد نے فرمایاکہ ڈاکٹر اقبال مرزانے لندن میں ایک بین الاقوامی سمینار میں مجھے مدعوکیاتھا، میں نے لندن پہنچ کر اس بات کامشاہدہ کیاکہ لندن میں اُن کی علمی حیثیت کتنی بلند تھی۔ وہ ایک بڑے ادیب کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی تھے۔

محترمہ نگار عظیم نے اُن کے رسالے ’صدا‘ کے تعلق سے کہاکہ اُن کے رسالے میں اچھے مضامین شائع ہوتے تھے اور انگلینڈ میں وہ رسالہ کافی مقبول تھا۔ ہندوستان کے ادیبوں کے بھی مضامین اُس میں شائع ہوتے تھے۔

اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدرنے اپنی افتتاحی گفتگو میں فرمایاکہ لندن میں رہ کراپنے رسالے ’’صدا‘‘ کے ذریعے جولوگ پورے یورپ میں اردو زبان و ادب کو فروغ دے رہے ہیں اُن میں ایک اہم نام اقبال مرزا کاتھا، مرحوم کئی کتابوں کے مصنف تھے خصوصاً آپ نے صدا کا عالمی نمبر شائع کیاتھاجوکہ ہماری ادبی دنیامیں دستاویزکی حیثیت رکھتاہے۔اس جلسے میں بڑی تعداد میں اہل علم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے