غالب انسٹی ٹیوٹ میں راشد انور راشدکی کتاب پر مذاکرہ

جنوری 2016

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہریاراں کے موقع پر۲۸جنوری کی شام میں معروف شاعر اورشعبہ

اردو، علی گرھ مسلم یونیورسٹی کے استادڈاکٹرراشد انور راشد کے شعری مجموعے ’’گیت سناتی ہے ہوا‘‘ پرایک علمی مذاکرے کا اہتمام کیاگیا،اس مذاکرے کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی اور کتاب کا تعارف ادارے کے ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدرنے پیش کیا۔ پروفیسر طارق چھتاری، پروفیسر قمر الہدی فریدی، پروفیسر مولیٰ بخش، پروفیسر کوثرمظہری، ڈاکٹر ابوبکرعباد، ڈاکٹر نجمہ رحمانی اور معید رشیدی نے شعری مجموعے پراپنے خیالات کااظہارکیا۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے صدارتی کلمات میں ڈاکٹرراشد انور راشدکی اس تخلیقی کاوش پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ راشد انور راشدکے کلام کو پڑھ کر اس بات کااندازہ لگایا جاسکتاہے کہ مستقبل میں اچھی شاعری کے امکانات موجود ہیں۔ راشد نے جن باتوں کی طرف اپنی شاعری میں اشارہ کیا ہے وہ مختلف ہیں اور روایتی شاعری سے ہٹ کر ہیں۔پروفیسر طارق چھتاری نے کہاکہ راشد انور راشد کی شاعری میں روانی ہے اور ایک خاص کیفیت سے سرشارہے،اس مجموعے کی خاص بات یہ ہے کہ ہرغزل کی ردیف مظاہر فطرت کے کسی نہ کس پہلو پر مشتمل ہے۔ فطرت کے بے شمار مظاہر راشد کی غزلوں میں ردیف کے طورپر استعمال ہوئے ہیں۔ پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی نے کہاکہ راشد کی غزلوں میں اس بات کا احساس ہوتاہے کہ جب وہ اس حسین کائنات کواپنی شاعری میں منظوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تووہ اپنے جذبات کی مدد سے کائنات کے حسن کواپنے اردگرد محسوس کرتے ہیں۔ راشدکی نظمو ں کاذکر کرتے ہوئے قمرالہدی فریدی نے کہاکہ نظمو ں کے جوعنوانات ہیں اس سے بھی ہم شاعر کی شعری انفرادیت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ تمام نظمیں قدرت سے انسان کے رشتے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔پروفیسر کوثر مظہری نے فرمایاکہ یہ شعری مجموعہ اپنے موضوع اور مواد کے اعتبارسے منفرد ہے۔اس میں راشد انور راشدنے کائنات کے مطالعے کواپنا موضوع بنایاہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اچھی شاعری کائناتی مطالعے کے بغیر مکمل ہوہی نہیں سکتی۔ اردو میں ایک طویل عرصے کے بعد ہمارے سامنے ایک ایسا مجموعہ ہے جس کا ہرشعر فطرت کے کسی نہ کسی پہلو سے منور ہے۔ ڈاکٹر ابوبکرعبادنے فرمایاکہ راشدایک بہترین نثرنگارکے ساتھ ساتھ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔ اُن کی شاعری میں مظاہرِ فطرت کے علاوہ جمالیاتی حسن بھی ہے۔ انہوں نے ندی،دریا،ریت، قوسِ قزح، آندھی،وادیِ گل، درخت، پہاڑ،برف، سبزہ، موسم، پتھر،رات ، زمین، عندلیب، طوفان، سیلاب اور اس طرح کے بے شمار ایسے قدرتی عناصر کو اپنی شاعری میں پیش کیاہے جس سے اُن کی تخلیقات کی وقعت میں اضافہ ہواہے۔ ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے راشد انور راشدکی شاعری پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ راشدنے اپنی نظموں میں جن مسائل پر گفتگو کی ہے وہ اچھوتے مسائل ہیں جن پر کم گفتگو ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی تخلیقات کوعوام کے مسائل سے جوڑاہے جس کی موجودہ وقت میں سخت ضرورت ہے۔ پروفیسر مولیٰ بخش نے کہاکہ راشدکی شاعری کے خاص نکات جوہمیں اپیل کرتے ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ ہمیں کائنات کی تمام الجھنوں سے ہٹاکر فطرت کی دنیا میں لے جاتے ہیں اور ہم اپنے آپ کوکائنات کی فطرت سے قریب محسوس کرتے ہیں۔ معیدرشیدی نے فرمایاکہ راشد انور راشدنے اپنی شاعری میں جس خوبصورتی کے ساتھ فطرت کی عکاسی ہے اُس سے اُن کے عمدہ تخلیقی عمل کااظہار ہوتاہے۔ انسان اور فطرت کے درمیان جو فاصلہ ہوگیاہے اُس فاصلے کو راشد نے اپنی غزلوں میں کم کرنے کی کوشش کی ہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرنے جلسے کی ابتدامیں اس کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ راشد انور راشد کاشمار اس عہدکے نمائندہ شعرا میں ہوتاہے اُن کی شعری تخلیقات کوپڑھ کر ایسا محسوس ہوتاہے کہ وہ کائنات کو فطرت اور مظاہرہِ قدرت کے تعلق سے ایک پیغام دے رہے ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ اُن کے اس شعری مجموعے کو علمی دنیامیں عزت کی نظروں سے دیکھا جائے گا۔اس جلسے میں پروفیسر شہزادانجم، ڈاکٹر اشفاق عارفی، ڈاکٹر عمر رضا،ڈاکٹر شعیب رضاخاں، جاوید رحمانی،نازیہ جافو(موریشس)،سفینہ،دانش حسین کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز اور اہل علم موجود تھے۔

Check Also

ڈاکٹر نجمہ رحمانی کی کتاب پر مذاکرہ

اگست 2015 غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام شام شہریاراں کے موقع پر ڈاکٹر نجمہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے