غالب انسٹی ٹیوٹ میں بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار

اکتوبر 2014

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے 

بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار۲۶،۲۷،۲۸ستمبر کو ایوانِ غالب میں منعقد ہوا۔ جس میں ملک و بیرون ملک کی مختلف دانشگاہوں سے اسکالرز نے شرکت کی۔ سمینار کا افتتاح جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کیا۔ پروفیسر طلعت احمد نے افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی قوم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان پڑھے اور سمجھے تاکہ اس کاتحفظ اور وقار بلند و بالا ہو۔ ریسرچ اسکالرز کو محنت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معیاری تحقیق ممکن ہو۔اگر وہ ابھی محنت کریں گے تو آگے چل کرایک بہترادیب کی صف میں ان کا شمار ہوسکے گا۔اس موقع پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ آج ہم ان سے مخاطب ہیں جو اردو زبان و ادب کے مستقبل ہیں۔ اردو کے نئے امکانات انہیں اسکالروں سے وابستہ ہیں۔یہی نوجوان اردو اداروں کے اساتذہ اور افسران ہوں گے۔ ریسرچ اسکالرز سمینار غالب انسٹی ٹیوٹ کی شناخت بن چکا ہے اورقومی کونسل کی بھی مستقل یہی کوشش ہے کہ دیگر اداروں کے اشتراک سے اہم سمینار اور پروگرام منعقد کراتا رہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدر نے دوران نظامت گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ گزشتہ چالیس برسوں سے غالب،عہدِ غالب اور معاصرین غالب کے حوالے سے کارہائے نمایاں انجام دیتا رہا ہے۔ تقریباً سوسمیناراورتین سو کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ ریسرچ اسکالر سمیناراہمیت کاحامل ہوچکاہے اب ایک دن کے بجائے تین دنوں تک اسکالروں کو اپنے خیالات پیش کرنے کاموقع ملے گا۔ اس بین الاقوامی سمینار کا دائرہ وسیع ہونے کی واحد وجہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کاتعاون ہے۔ عہد حاضر کے ممتاز نقادپروفیسر عتیق اللہ نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہاکہ اسکالرسمینار کافی اہمیت و افادیت کاحامل ہے جس میں ہندستان کی اور بیرونِ ملک کی مختلف دانشگاہوں سے ریسرچ اسکالرز شرکت کرتے ہیں۔اساتذہ اورریسرچ اسکالروں کوسنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے،اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اسکالروں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہیں موضوع دیں۔ ریسرچ اسکالروں کوفارسی بھی سیکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ زیادہ تر سرمایہ فارسی میں محفوظ ہیں۔فارسی زبان و ادب کے معتبراسکالرپروفیسرشریف حسین قاسمی نے بھی کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہاکہ کچھ کام اساتذہ کو سنجیدگی سے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبا کی تربیت ممکن ہوسکے۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر معیاری تحقیقی کام کی اہم وجہ تربیت کا نہیں ہونا ہے۔ سمینار کے افتتاحی اجلاس میں موجودپاکستان کے کارگزارہائی کمشنر منصورعلی خاں نے کہاکہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کوخود سے کافی قریب محسوس کرتا ہوں کیونکہ یہ ادارہ اردو کے تئیں اہم کردار ادا کر رہاہے۔ آخرمیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریسرچ اسکالروں میں سہل پسندی آگئی ہے جبکہ محنت و لگن کی ضرورت ہے۔ ادب بھی تنہا ادب نہیں رہ سکتااگر دیگر علوم سے فائدہ نہیں اٹھایا جائے۔ ریسرچ میں اپنے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سمینار کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریسرچ اسکالروں کویہ اختیار حاصل رہتا ہے کہ وہ اپنے مقالے ایم فِل یا پی ایچ ڈی کے موضوع کے حوالے سے ہی پیش کرسکتے ہیں۔ شاہد ماہلی نے اظہار تشکر ادا کرتے ہوئے کہاکہ ریسرچ اسکالرز سمینار تمام اسکالرز کے لیے بہت مبارک ہے اس لیے کہ جس ریسرچ اسکالر نے یہا ں مقالہ پیش کیا آج وہ اردو کا بڑا ادیب ہے۔اس سمینار میں ہندستان کی اہم یونیورسٹیوں کے اردو اور فارسی ریسرچ اسکالرز کے علاوہ پاکستان کے بھی ریسرچ اسکالرز نے شرکت کی۔ابوہریرہ، شیبا حیدر،ضیاء الرحمن، دھرم ویر وسنگھ،محمد آصف ملک، شاہنواز احمد اجے کمار، کہکشاں فلک،حیدر علی، محمد احتشام الحسن، رحمت یونس، رفعت مہدی رضوی، عزیز احمد، زیبا فاروقی، سعدالدین،محمد ایوب، جمیلہ بی بی، منہاج الدین، منت اللہ صدیقی، زبیر احمد، انو میاں،ایاز احمد، ارشد جمیل،محمد حذیفہ، عبدالرحیم،ذاکرحسین،سعدیہ جعفری،عبدالکریم،سفینہ، فاطمہ پروین،یاسر عباس،عرشِ منیر، شفیق انور،نغمہ نگار، علی ابراہیم آرزو، عندلیب عمر کے علاوہ پاکستان سے سعدیہ سرور،ارساکوکب اور صائمہ ارم نے مقالات پیش کیے۔ان تین دنوں میں صدارتی فریضہ کے لیے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی،ڈاکٹر خلیق انجم، شاہد ماہلی،پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر علی احمد فاطمی،پروفیسر صادق، پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر بلقیس فاطمہ حسینی، پروفیسر چندر شیکھر، ڈاکٹر خالد علوی،پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر ابنِ کنول، پروفیسر عبدالقادر جعفری، پروفیسر توقیر احمد خاں،پروفیسر ارتضیٰ کریم، ڈاکٹر شعیب رضا خاں، ڈاکٹر اطہر فاروقی،ڈاکٹر ثروت خان، پروفیسر انورپاشا، پروفیسر عین الحسن اور پروفیسر معین الدین جینابڈے موجود تھے۔اس سمینار میں ۹اجلاس منعقد ہوئے جس میں عبدالسمیع،محضر رضا، نوشاد منظر، رفعت مہدی رضوی،سفینہ، نورین علی حق،عینین علی حق،شاہنواز فیاض اورافسانہ حیات نے نظامت کا فریضہ انجام دیا۔ اختتامی اجلاس پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پروفیسر ابن کنول،شاہد ماہلی،صائمہ ارم،ڈاکٹر خلیق انجم، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کے علاوہ ڈاکٹر رضاحیدرنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سمینار کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ ان تین دنوں میں ۶۰سے زیادہ ریسرچ اسکالرز نے بحث و مباحثہ میں حصہ لیا جن کوبطور خاص مدعو کیاگیا تھا۔غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے سمینار میں تمام مقالہ نگاروں کوادارے کی اہم کتابوں کاتحفہ اورتمام ریسرچ اسکالرز کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اس سمینار میں دلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تقریباً ساڑھے تین سو ریسرچ اسکالرز کے علاوہ بڑی تعداد میں ایم۔اے کے طلبا و طالبات نے شرکت کی۔

اختتامی اجلاس کی تصویر میں دائیں سے: ڈاکٹر سیدرضاحیدر،پروفیسر محمد خواجہ محمد اکرام الدین، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی،شاہد ماہلی اورڈاکٹر صائمہ ارم

Check Also

یومِ غالب پر بین الاقوامی سمینارکا انعقاد

یوم غالب فروری ٢٠١٤  غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ، آغاخان فاؤنڈیشن، انجمن ترقی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے