غالب انسٹیٹیوٹ میں سالانہ غالب تقریبات

دسمبر 2014

غالب انسٹی ٹیوٹ زیراہتمام بین الاقوامی غالب تقریبات کاانعقاد

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام بین الاقوامی غالب سمینار کی افتتاحی تقریب۱۹؍دسمبر کوشام چھ بجے منعقدکی گئی جس میں نائب صدر غالب انسٹی ٹیوٹ، پرویز علی احمد کے دستِ مبارک سے غالب انعامات کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس موقع پرعہد حاضر کے معروف نقادپروفیسرقاضی افضال حسین کوغالب انعام برائے اردو تحقیق و تنقید،فارسی کے ممتاز اسکالرپروفیسرنبی ہادی کوفخرالدین علی احمدغالب انعام برائے فارسی تحقیق و تنقید،مشہور افسانہ نگارپروفیسر عبدالصمد کوغالب انعام برائے اردو نثر،معروف شاعرجناب مضطرمجازکوغالب انعام برائے اردو شاعری ملک کے اہم اداکار اور تھیئٹر آرٹسٹ جناب ٹام آلٹر کوہم سب غالب انعام برائے اردو ڈرامہ سے نوازا گیا اورپروفیسر شمس الحق عثمانی کومجموعی ادبی خدمات کے ایوارڈ سے سرفرازکیا گیا۔ ہرایوارڈ یافتگان کی خدمت میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ۷۵ہزار روپے اورمومنٹوپیش کیاگیا۔

اس موقع پرغالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری ،پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا کہ ہم غالب تقریبات کے موقع پر نہ صرف غالب کو یاد کرتے ہیں بلکہ ہم اُن ادیبوں اور دانشوروں کوبھی یاد کرتے ہیں جنہوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیاہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہ سمیناراردو، حالی، شبلی اور محمد حسین آزادکی نثرپرکیاہے ان حضرات نے اردو نثرکو اتنی تونائی عطاکی کہ آج ہماری اردو نثر ان کی رہینِ منت ہے۔

ممتاز ادیب و دانشورپروفیسر ابوالکلام قاسمی نے بین الاقوامی غالب سمینارجو:’’ جدید اردو نثر کے معمار:محمد حسین آزاد حالی اور شبلی‘‘کے موضوع پر منعقد کیااُس کا افتتاح اپنے کلیدی خطبہ سے کیا۔ پروفیسرابوالکلام قاسمی نے فرمایاکہ محمد حسین آزاد، حالی اور شبلی نے اردو ادب کو اتنی اہم کتابیں دیں جو ہمارے لئے دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ نے اپنی گفتگو میں محمد حسین آزاد کی نثرکاخصوصیت کے ساتھ ذکرکیا۔ حالی کی نثرکاذکر کرتے ہوئے آپ نے کہاکہ مقدمہ شعروشاعری ہمارے ادب کی اتنی اہم کتاب ہے جو آج بھی ہماری رہنمائی کررہی ہے۔ حالی کی تنقید نگاری نے بہت سے نئے نئے پہلو پیش کیے۔ 

جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے جسٹس جناب آفتاب عالم نے اپنے صدارتی کلمات میں فرمایاکہ ہمیں اِن تمام اسکالرز کو غالب انعامات دیتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے۔ آپ نے موضوع کے تعلق سے فرمایاکہ اِن تینوں ادیبو ں نے اردو نثرکے فروغ میں اتنا اہم کردار ادا کیاہے جسے ہماری ادبی تاریخ میں بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا، اِن تینوں حضرات نے نثرکے علاوہ اور بھی کئی اردو اصناف خدمات ادا کی ہیں۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سید رضاحیدر نے افتتاحی تقریب کی نظامت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ کارکردگی و ادبی سرگرمیوں کی تفصیلات اور مہمانان کا تعارف پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ ادارہ اپنے علمی ،ادبی،تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں کی وجہ سے نہ صرف ہندستان میں بلکہ پوری دنیامیں جانا جاتا ہے۔آپ نے موضوع کے تعلق سے فرمایاکہ محمدحسین آزاد،حالی اور شبلی ہمارے کلاسیکی ادب کے اُن ممتاز ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی نثرکے ذریعے پورے عہدکو متاثرکیا۔ حالی کی یادگارِ غالب، محمد حسین آزادکی آب حیات اورعلامہ شبلی نعمانی کی موازنۂ انیس و دبیریہ تینوں کتابیں ہماری ادبی تاریخ میں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔

نائب صدر غالب انسٹی ٹیوٹ، پرویز علی احمد،جسٹس بدر دُرریزاحمد اورجسٹس آفتاب عالم کے دستِ مبارک سے غالب انسٹی ٹیوٹ کی شائع کردہ نئی مطبوعات کلاسیکی ادب اور ترقی پسند تنقیدمرتبہ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی ،مجاز،:حیات و خدمات،مرتبہ،ڈاکٹر رضاحیدر،گنجینۂ معنی کا طلسم،ڈاکٹر اسلم پرویز، غالب نامہ کے دونوں شمارے(جولائی۲۰۱۴،جنوری ۲۰۱۵) کے علاوہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی سال۲۰۱۵ء کی ڈائری،کلینڈر، اورسال بھر کی سرگرمیوں کے ایک کتابچہ کارسمِ اجراء بھی عمل میں آیا۔

آخر میں ادارے کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدر نے تمام سامعین کااور مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔

سمینار کی افتتاحی تقریب کے اختتام پرشانتی نکیتن سے تشریف لائی مشہور و معروف غزل سنگر محترمہ موسمی رائے نے نے غالب، رومی، جامعی اور فارسی کے شعرا کی غزلیں پیش کیں۔

سمینار کے دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں مشہورنقاد اور دانشور پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے صدارت کی۔ مہمانِ خصوصی کی حثییت سے پروفیسر ابنِ کنول شریک رہے۔ابوالکلام قاسمی نے حالی اورشبلی کے نظامِ نقد اور اُن کے تصور تنقید پرروشنی ڈالتے ہوئے اپنے صدارتی خطبہ میں کہاکہ اردو نثرکے سب سے اہم ستون حالی اورشبلی ہیں۔پروفیسرابنِ کنول نے حالی اور شبلی کی گراں قدر خدمات کااعتراف کیااس جلسہ میں تین مقالہ پڑھے گئے پہلامقالہ ڈاکٹر وسیم بیگم نے حالی کی حیات جاوید کاتنقیدی جائزہ کے عنوان سے پڑھا۔اسی عنوان کے تحت دوسرا مقالہ ڈاکٹر مظہری نے پیش کیا۔ اس جلسہ کا آخری مقالہ جناب شاہد ماہلی نے پیش کیا۔انہوں نے شبلی کی سیاسی بصیرت کے عنوان سے شبلی کی سیاسی بصیرت پر روشنی ڈالی۔ اس جلسہ کی نظامت نورین علی حق نے کی۔ چائے کے وقفے کے بعد دوسرا اجلاس جناب شاہدمہدی کی صدارت میں منعقد ہوااس جلسہ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے پاکستان سے تشریف لائے معروف شاعر اور نقاد پروفیسر اصغر ندیم نے شرکت کی۔ اس جلسہ میں چار مقالہ پیش کیے گئے۔ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے ایک منفرد موضوع حالی کا تصور تاریخ پیش کیا۔انہوں نے حالی کے تصور تاریخ پرگفتگو کرتے ہوئے تاریخ کے متن کوایک بیانیہ کے طورپر دیکھنے کی کوشش کی۔دوسرا مقالہ ڈاکٹرسیدتقی عابدی کا تھاانہوں نے آزاد،حالی اور شبلی کی نثری خدمات کا جائزہ لیا۔پروفیسر قاضی جمال حسین نے شبلی کی نظامِ نقد کابھرپور جائزہ پیش کیا۔ انہو ں نے اس بات پر زوردیاکہ شبلی مغرب سے مرعوب نہ تھے بلکہ انہوں نے مغرب کے مقابلے میں مشرقی شعریات کو اہم جانا۔پروفیسر عتیق اللہ صاحب نے مغربی سیاق میں شبلی کے نظام نقد کا جائزہ پیش کیا۔ سمینار کے دوسرے دن کاتیسرا اجلاس معروف فکشن نگارجناب انتظارحسین صاحب کی صدارت میں شروع ہوا۔ اس جلسہ میں ڈاکٹر اطہرفاروقی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس جلسہ میں تین مقالہ پیش کیے گئے۔ انتظار حسین نے اپنی صدارتی تقریر میں اس بات کی شکایت کی کہ سمینارکے تمام مقالے صرف حالی اور شبلی پر مرکوز ہیں اس میں محمدحسین آزاد کاذکر نہیں آیا۔ حالانکہ یہ سمینار آزاد،حالی اور شبلی کی تثلیث پرقائم کی۔ اس لیے آزاد کاذکر ضروری ہے۔چائے کے وقفے کے بعدآخری اجلاس شروع ہوا۔اس جلسہ میں پروفیسرخالدمحمودمہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شامل ہوئے۔ پروفیسر زماں آزردہ نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔ ڈاکٹر احمدامتیاز،ڈاکٹر یوسف عامر اورایلین ڈیسولیئرنے مقالے پیش کیے۔نظامت محترمہ سفینہ بیگم نے کی۔گذشتہ سال کی طرح امسال بھی۲۰ دسمبر۲۰۱۴ شام سات بجے بین الاقوامی غالب تقریبات کے موقع غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عالمی مشاعرہ کاانعقاد ایوانِ غالب میں کیاگیا۔ جس میں ملک اور بیرونِ ملک کے اہم شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔ اس عالمی مشاعرے کی صدارت کینڈا سے تشریف لائے ڈاکٹرسیدتقی عابدی نے انجام دی۔ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر سراج اجملی نے انجام دیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سیدرضاحیدرنے اپنی افتتاحی تقریر میں اس مشاعرے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کایہ مشاعرہ ہندستان کے تمام مشاعروں سے اس لیے منفرد ہے کہ ہم اس مشاعرے میں اُن ہی شعراکو مدعو کرتے ہیں جن کے کلام ملک کے معیاری رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں اوراِن شعراء کے کلام کو علمی و ادبی دنیا میں عزت کی نظروں سے دیکھا جاتاہے۔ اس مشاعرے میں طلبہ، اساتذہ، اسکالرز، شعراکے علاوہ مختلف علوم و فنون کے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔

بین الاقوامی غالب سمینارکے تیسرے دن کے پہلے اجلاس کاانعقاد پروفیسر صادق کی صدارت میں صبح دس بجے شروع ہوا۔اس جلسہ میں چارمقالہ پڑھے گئے۔پہلا مقالہ معید رشیدی کاتھا،ڈاکٹر نورفاطمہ اورڈاکٹر شمس بدایونی کے علاوہ اس جلسہ میں پاکستان سے تشریف لائے معروف فکشن نگارجناب انتظارحسین نے آزاد،حالی اور شبلی کے حوالے سے نہایت اہم مقالہ پیش کیا۔اس جلسہ کی نظامت ڈاکٹر جاوید رحمانی نے کی۔دوسرا اجلاس پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی صدارت میں شروع ہوا۔اس جلسہ میں جناب انتظارحسین مہمانِ خصوصی کے طورپر شامل ہوئے۔آخری دن کے دوسرے جلسہ میں چار مقالے پیش کیے گئے،ڈاکٹر علی جاوید کے علاوہ پروفیسر انیس اشفاق نے موازنہ کاقضیہ،ڈاکٹر اصغرندیم سید نے حالی کے تنقیدی امتیازات پر روشنی ڈالی۔پروفیسر قاضی افضال حسین نے حالی کے تنقیدی افکارکاجائزہ پیش کیا۔ لنچ کے وقفہ کے بعد تیسرا اجلاس پاکستان سے تشریف لائے معروف اسکالر ڈاکٹر اصغرندیم سید کی صدارت میں دوپہردوبجے شروع ہوا۔اس جلسہ میں پانچ مقالے پڑھے گئے۔ پروفیسر شریف حسین قاسمی،قاضی عبیدالرحمن ہاشمی، پروفیسر انورپاشااورڈاکٹر خلیق انجم نے جدیداردو نثر کے معمار آزاد،حالی اور شبلی کے مختلف پہلوؤں کاجائزہ لیا۔پروفیسر مظہرمہدی نے آزادکوانگریزی مشین کے ایک پُرزے کے طورپر دیکھنے کی کوشش کی۔اختتامی جلسہ میں پاکستان سے تشریف لائے جناب انتظارحسین،ڈاکٹر اصغر ندیم سیداور مصرسے تشریف لائے ڈاکٹر یوسف عامر نے سمینار کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اور غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی کی کاوشوں کوسراہااوریہاں کے اراکین ادارہ کوسمینار کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ اختتامی جلسہ کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے انجام دی۔ اورمہمانِ خصوصی کی حیثیت سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے شرکت کی۔اس جلسہ کی نظامت غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدرنے انجام دی۔ اورجناب شاہد ماہلی نے تمام شرکاکا شکریہ ادا کیا۔آخری جلسہ میں سمینار میں تشریف لائے تمام اسکالرس اورہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں سے تشریف لائے اور طلبا اور طالبات کی خدمت میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی مطبوعات پیش کی گئیں۔ غالب تقریبات کے اختتام پر ہم سب ڈرامہ گروپ(غالب انسٹی ٹیوٹ) اوربہروپ آرٹس گروپ کی طرف سے کرخواجہ احمدعباس کا تحریر کردہ اُردو ڈرامہ ’’اجنتا کی طرف‘‘پیش کیا گیا،،جس کی ہدایت کے فرائض جناب اروند آلوک انجام دیے۔

غالب انسٹی ٹیوٹ میں عالمی مشاعرہ کا انعقاد

گذشتہ سال کی طرح امسال بھی ۲۰ دسمبر۲۰۱۴ شام سات بجے بین الاقوامی غالب تقریبات کے موقع پرغالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عالمی مشاعرہ کاانعقاد ایوانِ غالب میں کیاگیا۔ جس میں ملک اور بیرونِ ملک کے اہم شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔ اس عالمی مشاعرے کی صدارت کینڈا کے ممتاز ادیب و دانشور ڈاکٹر سید تقی عابدی نے انجام دی۔اور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ملک کے اہم شاعر اور اس سال کے غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے شاعری کے غالب انعام یافتہ شاعرمضطرمجاز موجود تھے۔ نظامت کا فریضہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی شعبۂ اردو کے سینئر استاد ڈاکٹر سراج اجملی نے انجام دیا۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سیدرضاحیدرنے اپنی افتتاحی تقریر میں اس مشاعرے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کایہ مشاعرہ

ہندستان کے تمام مشاعروں سے اس لیے منفرد ہے کہ ہم اس مشاعرے میں اُن ہی شعراکو مدعو کرتے ہیں جن کے کلام ملک کے معیاری رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں اوراِن شعراء کے کلام کو علمی و ادبی دنیا میں عزت کی نظروں سے دیکھا جاتاہے۔ اس مشاعرے میں طلبہ، اساتذہ، اسکالرز، شعراکے علاوہ مختلف علوم و فنون کے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔ پیش ہیں کچھ شعرا کرام کے منتخب کلام:

گذرجاتی ہے ساری زندگی جن کے تعاقب میں

بگولے ہیں کسی بھی خواب کی صورت نہیں ہوتی

عذرا نقوی

کس کی تعریف کریں، کس کے قصیدے لکھیں

نفسِ مضمون سے بڑھ کر ہیں حوالے اچھے

مہتاب حیدر نقوی

سجدوں کو کیا رسم و تکلف

کیا جادہ سجادہ پرسی

نسیم عباس

میری قسمت کا ستارا ہے چمکنے والا

میرے بارے میں ووٹر کاخیال اچھا ہے

اس بھروسے پہ الیکشن میں کھڑا ہوں میں بھی

اک نجومی نے کہا کہ یہ سال اچھا ہے

اعجاز پاپولر

آہستہ آہستہ ایسا وقت بھی آئے گا

جب روشن سورج کا تعارف دیا کرائے گا

مضطر مجاز

نظر بت تراشوں کی جن کو ملی ہے

چٹانوں کے اندر صنم دیکھتے ہیں

تقی عابدی

خود سے ملنے کی بھی جستجو کیجئے

دل جو تنہا ملے گفتگو کیجئے

اسد رضا

وہ برگ و بار اُگائے ہیں ہم نے گلشن میں

مسل بھی جائیں تو اِن سے حِنا نکلتی ہے

ڈاکٹر ناشِر نقوی

کہاں کا پیڑ، نہیں پھوٹی کوئی کونپل بھی

ہزاروں آرزوئیں دل میں بوچکیں آنکھیں

ڈاکٹر ظفر مراد آبادی

عبارتیں تیرے چہرے کی یوں بھی ہیں ازبر

کہ اس کتاب کو میں نے پڑھا زیادہ ہے

وقار مانوی

عزم و ایثار و وفا کا جو ہنرجانتے ہیں

بس وہی قافلے آدابِ سفر جانتے ہیں

قیصر اعظمی

میں چاہ کر بھی ترے ساتھ چل نہیں سکتا

اے نسلِ نو تری رفتار کچھ زیادہ ہے

اقبال اشہر

بس ایک بار ترا عکس جھلملایا تھا

پھر اس کے بعد مرا جسم تھا نہ سایہ تھا

راشد انور راشد

اُدھر کے رُخ سے جو دیکھ آئے سو دیکھ آئے

اِدھر سے دیکھو کچھ اور منظر دکھائی دے گا

راشد جمال فاروقی

مزا نہ آیا کہانی میں کچھ ہمارے بغیر

جہاں کٹے تھے وہیں پھر رقم کئے گئے ہم

شکیل اعظمی

راہ و رسم اس کی امیرالبحر سے کیا خاک تھی

پیاس سے بے تاب اب پھرتا ہے دریا آشنا

سراج اجملی

میں اُس کی بزم ناز میں ہوکر بھی آگیا

الجھا رہا زمانہ ثواب و عذاب میں

افضل منگلوری

بدل گئے ہیں تقاضے حیات کے پھر بھی

کسی سے پیار ہمیں اب بھی آہ کتنا ہے

شاہد ماہلی

جناب شاہد ماہلی کے اظہارِ تشکّر کے ساتھ مشاعرہ کااختتام ہوا۔

۔۔۔۔

 

Check Also

یومِ غالب پر بین الاقوامی سمینارکا انعقاد

یوم غالب فروری ٢٠١٤  غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ، آغاخان فاؤنڈیشن، انجمن ترقی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے