جے پور میں ایک شام غالب کے نام

اگست 2016

غالب انسٹی ٹیوٹ اور راجستھان کا اہم ادبی و ثقافتی ادارہ جواہر کلاکیندر، جے پور کے باہمی اشتراک سے ’’ایک شام غالب کے نام‘‘ کے موضوع پر جے پورمیں ایک بڑے جلسے کاانعقاد عمل میںآیا۔ اس جلسے میں راجستھان کے سابق وزیرِ صحت اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے وائس چیرمین جناب اعمادالدین احمد خاں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے اور پروفیسر علی احمد فاطمی، جناب جگروپ سنگھ یادو، جناب معظم علی، محترمہ انورادھا سنگھ کے علاوہ کئی ادیبو ں نے غالب او رعہدِ غالب کے تعلق سے گفتگو کی۔ اعمادالدین احمد خاں نے اس جلسے کا افتتاح کرتے ہوئے سب سے پہلے غالب انسٹی ٹیوٹ اور جواہر کلاکیندر کو مبارکباد پیش کیا اور فرمایاکہ آج ہم سب کے لیے بڑے اعزازکی بات ہے کہ سرزمین راجستھان پر ہم اُس عظیم شاعرکو یاد کر رہے ہیں جس نے اپنی شاعری کے ذریعے پوری عالمِ انسانیت کو محبت اور بھائی چارگی کا پیغام دیا۔اعماد الدین احمدخاں نے غالب کے حوالے سے فرمایاکہ غالب کی شاعری کی مقبولیت کس حد تک بڑھ رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ ملک کے بڑے بڑے رہنمابھی اپنی گفتگو میں وزن پیدا کرنے کے لیے غالب کے اشعار کا استعمال کرتے ہیں۔ عام طورسے یہ خیال کیا جاتاہے کہ غالب کے کلام کو پسندکرنے والے صرف ایک طبقے کے لوگ ہیں لیکن یہ ہماری غلط فہمی ہے کیونکہ آج غیر اردوداں طبقے میں سب سے زیادہ غالب محبوب بنے ہوئے ہیں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرنے اپنی استقبالیہ گفتگو میں کہاکہ اس ادارے کے مقاصد میں اردو وفارسی زبان و ادب کی ترقی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ ہم غالب،معاصرینِ غالب اور عہدِ غالب پرملک کے سبھی بڑے شہروں میں جلسے کا انعقاد کریں۔ ہم نے ملک کے متعدد شہروں میں غالب کو یاد کیاہے اور ہمیں خوشی ہورہی ہے کہ ہم جے پور میں بھی غالب پر گفتگو کے لیے موجود ہیں۔آپ نے مزید فرمایاکہ ملک اور بیرونِ ملک میں غالب پر بے شمار سمینار، سمپوزیم اور جلسوں کا انعقا دہوچکاہے، ایک ہزار سے زیادہ کتابیں مختلف زبانوں میں غالب پر شائع ہوچکی ہیں لیکن جب بھی ہم غالب کی شاعری پر گفتگو کرتے ہیں تو ہمیں تشنگی کااحساس ہوتاہے۔ آج بھی ہمارے علما کلامِ غالب میں نئے نئے معنی و مفاہیم تلاش کرلیتے ہیں۔ الٰہ آباد یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو پروفیسر علی احمد فاطمی نے فر مایا کہ غالب صرف عظیم شاعر ہی نہ تھے بلکہ بڑے ذہن کے مالک تھے۔ان کی زندگی کے تین واقعات بیحد اہم ہیں۔یتیم ہونا۔دہلی میں منتقل ہونااور کلکتہ کاسفر کرنا۔ زندگی کے رنج و غم اور جدوجہد نے اُن کے دل و دماغ میں حیات وکائنات کا وسیع ترین اور بلند ترین تصور پیش کیا۔ جس کے مختلف و بلیغ اشارے ان کی شاعری میں نظرآتے ہیں۔ کبھی وہ بربادی میں حسرت تعمیر دیکھتے ہیں، کبھی وہ دنیاکو بازیچۂ اطفال سمجھنے لگتے ہیں۔ اورکبھی بیاباں میں بہار کو تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اسی لیے ان کی شاعری میں گہرائی کے ساتھ ساتھ دلنوازی بھی ہے۔انہوں نے اپنے ذاتی کرب کو دنیا کے کرب میں ڈھال دیا۔ اورجاتی ہوئی تہذیب کو رخصت کیا تو آنے والی تہذیب کا استقبال کیا۔اسی لیے وہ انسان اور انسانیت۔ تہذیب و معاشرت کے شاعرِ عظیم بن گیے۔اس جلسہ میں جگروپ سنگھ یادو(آئی۔اے۔ایس)، جناب معظم علی سکریٹری راجستھان اردو اکادمی اور اظہارمسرت نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا۔جلسے کے دوسرے حصّے میں بین الاقوامی شہرت یافتہ غزل سنگر استاد اقبال احمد خاں اور اُن کے شاگردوں نے اپنی خوبصورت آوازمیں غالب کی غزلوں کو پیش کرکے سامعین سے داد و تحسین حاصل کی۔اس جلسے میں بڑی تعداد میں سیاسی رہنما، بیوروکریٹس، وکلا، طلبا، طالبات کے علاوہ مختلف علوم و فنون کے افراد کثیر تعداد میں جمع تھے۔

 

Check Also

یومِ غالب پر غالب انسٹی ٹیوٹ میں غالب تقریبات کا اہتمام

مارچ 2015 انجمن ترقی اردودلّی شاخ، غالب انسٹی ٹیوٹ اور غالب اکادمی کے زیر اہتمام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے