اخلاق الرحمن قدوائی اور محمد شفیع قریشی کی یاد میں تعزیتی جلسہ

اگست 2016

غالب انسٹی ٹیوٹ میں اخلاق الرحمن قدوائی اور محمد شفیع قریشی کی یاد میں تعزیتی جلسہ

غالب انسٹی ٹیوٹ اور انجمن ترقی اردو ہندکے زیر اہتمام ملک و قوم کے عظیم رہنما ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی اور محمد شفیع قریشی کے انتقال پر ایوانِ غالب میں ایک تعزیتی جلسے کا انعقاد کیاگیاجس میں پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، ڈاکٹر اطہر فاروقی، مفتی عطاء الرحمن قاسمی، ڈاکٹر حنیف ترین، ڈاکٹر رضاحیدرکے علاوہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کے صاحبزادے مونس قدوائی نے اظہارِ تعزیت پیش کی۔ پروفیسر اخترالواسع نے اپنی تعزیتی گفتگو میں فرمایاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی بنیادی طوپرایک بڑے سائنس داں تھے مگر انہوں نے ملک و قوم کی ترقی کے لیے بڑے سے بڑاعہدہ قبول کیااور جس شعبے سے وابستہ رہے اپنی ذہانت و قابلیت سے اُس شعبے کو بلندیوں تک پہنچایا، انہوں نے مزید کہاکہ محمد شفیع قریشی بھی ایک بے باک انسان تھے اور انہوں نے بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کی خاصیت یہ تھی کہ وہ سماج کے ہر طبقے کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ جب وہ ہریانہ کہ گورنر ہوئے تو انہو ں نے اس ریاست کے سب سے پسماندہ علاقے میوات کی عوام کی ترقی کے لیے نہایت ہی اہم اور بنیادی امور انجام دیے۔ جس ریاست کے بھی گورنر رہے اُس ریاست کی ترقی، تعلیم اور اقتصادی خوشحالی اُن کی ترجیحات میں تھی۔ مرحوم محمد شفیع قریشی بھی ہمارے اُن اکابرین میں سے تھے جنہوں نے کبھی اصولوں سے سمجھوتا نہیں کیا۔ اِن دو عظیم رہنماکا ایک ساتھ رخصت ہوجانا ہم سب کے لیے کسی بڑے نقصان سے کم نہیں ہے۔ انجمن ترقی اردوکے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے فرمایاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی بڑے سے بڑے منصب پررہے مگر اردوزبان و ادب کی ترقی کے لیے بھی ہمیشہ کام کرتے رہے۔ انجمن ترقی اردو ہند کے علمی معاملات میں کافی دلچسپی لیتے تھے اور ادارے کے لیے ان کی خدمات کا ہمیشہ اعتراف کیا جائے گا۔ مفتی عطاء الرحمن قاسمی نے کہاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی جیسی ہستی صدیوں میں پیدا ہوتی ہے،بڑے عہدوں سے وابستگی کے باوجود، قناعت پسندی اور انسان دوستی اُن کی زندگی کا سب سے خاص عنصر تھا، بہا رکے گورنر رہتے ہوئے انہوں نے سماجی، علمی اور مذہبی شعبے میں جوگراں قدر خدمات انجام دی ہیں اُسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا،ڈاکٹر حنیف ترین نے اپنے تعزیتی کلمات میں فرمایاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی نے انسانیت کی خدمات کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی۔ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کے صاحبزادے مونس قدوائی نے بھی اپنے تاثراتی کلمات میں غالب انسٹی ٹیوٹ اور انجمن ترقی اردو ہندکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اِن دوبڑے اداروں نے ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کی خدمات کااعتراف کیاجس کے لیے میں ذاتی طورپر شکریہ ادا کرتاہوں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرنے جلسے کی ابتدامیں اِن دونوں مرحومین کو اظہارِ تعزیت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی اور محمد شفیع قریشی کاسیاسی، سماجی اور علمی سفر اتنا طویل تھاکہ اُس پر جتنا بھی اظہارخیال کیا جائے کم ہے۔ ہندستانی سیاست میں ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی نے لمبے عرصے تک اپنی موجودگی کااحساس کرایااو ربہار،بنگال، ہریانہ کے گورنر، دلّی کے لیفٹننٹ گورنر، ممبرراجیہ سبھا، چیرمین، یونین پبلک سروس کمیشن کے علاوہ جن جن عہدوں سے وابستہ رہے آپ نے اپنی ذہانت، محنت، ایمانداری، دیانت داری، خلوص اور دلچسپی کے ساتھ تمام عہدوں کی عزت وآبرو کوبرقرار رکھا۔یہ دونوں حضرات غالب انسٹی ٹیوٹ سے بھی وابستہ تھے اور اِن کی وابستگی سے ادارے کے وقارمیں ہمیشہ اضافہ ہوتارہا۔ اس جلسے میں ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی اور محمد شفیع قریشی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لے بڑی تعداد میں مختلف شعبوں کے لوگ موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے