Home / میوزیم

میوزیم

بیگم عابدہ احمد غالب میوزیم Begum Abida Ahmed Ghalib Museum

بیگم عابدہ احمد غالب میوزیم
Begum Abida Ahmed Ghalib Museum

غالب انسٹیٹیوٹ کا بیگم عابدہ غالب میوزیم جو کہ 1977 میں قیام کیا گیا تھا اپنی خوبصورتی ،سجاوٹ،نوادرات،قیمتی اشیاء اور نایاب مخطوطات کی وجہ سے دلی کی ادبی،تہذیبی،اور ثقافتی زندگی کا اہم مرکز ہے . غالب انسٹیٹیوٹ میں آنے والوں کے لئے یہ میوزیم ہمیشہ سے پرکشش رہا ہے . غالب میوزیم جسے بیگم عابدہ احمد نے قایم کیا تھا ان کے انتقال کے بعد سے اس میوزیم کا نام ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا. اس میوزیم کی خوبصورتی اور انفرادیت سے متاثر ہوکر دلی حکومت نے اپنی ٹورسٹ گائیڈ میں اسے خاص جگہ دی ہے.

معاصرین غالب

میوزیم میں غالب کے معاصرین کی حالات زندگی ان کی تصویروں کے ساتھ موجود ہے غالب کا عہد اردو شعرو ادب کا اہم عہد تھا. غالب کو ذوق،مومن،حالی،آزردہ ،شیفتہ،سرسید،میر مہدی مجروح اور تفتہ جیسے معاصر ین ملے. شاگردوں میں حالی،مجروح،علائی،تفتہ،سالک،عزیز،اور جوہر جیسے اہل علم ہمیشہ ساتھ رہے.غالب کے انتقال کے بعد حالی نے مشہور کتاب "یادگار غالب" لکھ کر دوستی اور شاگردی کا حق ادا کیا.

غالب کی مہریں

میوزیم میں غالب کی مہروں کو بھی نمائش کے لئے رکھا گیا ہے. مہروں کا رواج انیسویں صدی میں اور اس سے پہلے بہت عام تھا. غالب نے اپنی زندگی میں کم ازکم آٹھ مہریں بنوائی تھیں."اسداللہ خان عرف مرزا نوشہ" ،"اسداللہ غالب"، "محمد اسداللہ خان"، "نجم الدولہ دبیر الملک اسداللہ خان بہادر جنگ" اور "غالب" کے نام سے پانچ مہریں اب تک دستیاب ہو سکی ہیں. 

ڈومنی

ڈومنی کا خوبصورت مجسمہ میوزیم میں آنے والے ہر عام و خاص کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے. غالب کی زندگی اور شاعری پر کام کرنے والے بعض اسکالرز نے یہ لکھا ہے کہ غالب کسی ستم پیشہ ڈومنی کے عشق میں گرفتار رہے.غالب نے اس ڈومنی کا ذکر ایک خط میں کچھ اس طرح کیا ہے: مغل بچے بھی غضب ہوتے ہیں، جس پر مرتے ہیں اس کو مار رکھتے ہیں. میں بھی مغل بچہ ہوں. عمر بھر میں ایک بڑی ستم پیشہ ڈومنی کو میں نے بھی مار رکھا ہے.

عہد غالب کے ملبوسات

عہد غالب کے ملبوسات پر مغلیہ طرز زندگی کا خاص اثر تھا. اس عہد کے افراد اچکن،ٹوپی،انگرکھا،عبا،قبااور خاص قسم کی پگڑیوں کا استعمال اپنے پہناوے میں کرتے تھے. غرارہ، فرشی پائجامہ اور چوڑی دار پائجامہ عورتوں کا خاص لباس تھا۔غالب اپنے لباس میں انگرکھا،اچکن،اور ترکی ٹوپی کا استعمال کرتے تھے. 

نادر و نایاب مخطوطات

میوزیم میں غالب کے اوریجنل خطوط کے علاوہ فارسی اور اردو کے نادر و نایاب مخطوطات خاصی تعداد میں موجود ہیں. مشہور فارسی شعرا رومی،سعدی،حافظ اور مولانا روم کے علاوہ اردو کے بھی کئی اہم شعرا کے کلام مخطوطات کی شکل میں موجود ہیں. ان مخطوطات سے اردو اور فارسی کے طلبہ اور اساتذہ فیض حاصل کرتے ہیں. یہ تمام مخطوطات میوزیم کی زینت میں مزید اضافہ کرتے ہیں.

غالب کے آخری مکان کی تصویر

غالب دلی میں کئی مکانوں میں رہے. 1865 میں غالب نے ایک مکان کرایہ پر لیا.اس وقت غالب نے اس مکان کا کرایہ ساڑھے پانچ روپیہ مہینہ ادا کیا. یہی وہ مکان ہے جو غالب کا آخری مکان ثابت ہوا. غالب کے اہم شاگرد خواجہ الطاف حسین حالی غالب کے آخری مکان کے بارے میں لکھتے ہیں: 

سب سے آخری مکان جس میں ان کا انتقال ہوا، حکیم محمود خان مرحوم کے دیوان خانے کے متصل مسجد کے عقب میں تھا.